ملیر (الیون نیوز)کراچی کے ضلع ملیر میں واقع جیل کے مرکزی دروازے پر دن کے اوقات میں ہمیشہ ہی ایسے افراد کا ہجوم رہتا ہے جو جیل میں مقید اپنے اہلخانہ، رشتہ داروں اور دوست احباب سے ملاقات کرنے کے لیے یہاں موجود رہتے ہیں، لیکن منگل (تین جون) کی صبح یہاں ’ملاقاتیوں‘ کا ایک جمِ غفیر موجود تھا اور افراتفری کی سی صورتحال تھی۔
قیدیوں کے اہلخانہ منگل کی صبح یہ خبر سُن کر جیل کے مرکزی دروازے پر پہنچے تھے کہ مبینہ طور پر گذشتہ رات گئے آنے والے زلزلے کے جھٹکے کے بعد چند قیدی جیل توڑ کر فرار ہو گئے ہیں۔
اپنے پیاروں کی خبر جاننے کے منتظر یہ افراد جیل کے مرکزی دروازے کے باہر ہی کبھی سڑک پر بیٹھ جاتے اور کبھی سکیورٹی اہلکاروں کے سامنے احتجاج کرنے لگتے اور اُن سے تصدیق چاہتے کہ کیا جیل میں موجود اُن کے رشتہ دار ٹھیک ٹھاک ہیں یا نہیں۔ تاہم دوسری جانب سکیورٹی اہلکار انھیں دروازے کے قریب آنے سے مسلسل روک رہے تھے۔
ایسے میں جیل کے گیٹ کے قریب موجود ایک نقاب پوش خاتون کی آواز کانوں میں پڑی جو الزام عائد کرتی ہیں کہ ’یہ زلزلے اس لیے آ رہے ہیں کیونکہ پولیس والے رشوت لیتے ہیں۔‘
جیل کے باہر منگل کی صبح بڑی تعداد میں قیدیوں کے اہلخانہ موجود تھے
ملیر جیل کے گیٹ پر یہ صورتحال دیکھ کر الیون نیوز کی ٹیم آگے بڑھی اور جیل کی عمارت میں داخل ہو گئی۔ یاد رہے کہ یہ وہی مرکزی گیٹ ہے جس سے گذشتہ رات 216 قیدی فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے جن میں سے 78 قیدیوں کو دوبارہ گرفتار کر لیا گیا ہے۔






