0

فرانس میں Uber Eats & Deliveroo کے خلاف عدالت میں ‘انسانی اسمگلنگ’ کا مقدمہ.کس طرح غیر ملکیوں کے خلاف ظلم کیا جاتا ہے ؟ تحریر ۔سید حسنین عباس سویڈن

فرانس میں Uber Eats & Deliveroo کے خلاف عدالت میں ‘انسانی اسمگلنگ’ کا مقدمہ.کس طرح غیر ملکیوں کے خلاف ظلم کیا جاتا ہے ؟


تحریر سید حسنین عباس سویڈن

فرانس میں کھانے کی ترسیل کرنے والی معروف کمپنیوں، ڈیلیوروز (Deliveroo) اور اوبر ایٹس (Uber Eats) کے خلاف “انسانی اسمگلنگ” کے سنگین الزامات کے تحت ایک بے مثال فوجداری شکایت درج کرائی گئی ہے، جو پلیٹ فارم اکانومی اور مزدوروں کے حقوق کے حوالے سے ایک نئی قانونی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے۔ 22 اپریل کو پیرس کے پبلک پراسیکیوٹر کے پاس جمع کرائی گئی اس شکایت میں چار بڑی تنظیمیں شامل ہیں، جن میں بورڈو کی ‘میسن ڈیس لیورورز’ اور پیرس کی ‘میسن ڈیس کورئیرز’ کے ساتھ ساتھ مزدوروں کی حمایتی انجمنیں ‘امل’ اور ‘سیل’ پیش پیش ہیں۔ ان تنظیموں کا موقف ہے کہ ان کمپنیوں کا پورا کاروباری ماڈل انتہائی کمزور اور مجبور افرادی قوت کے استحصال پر قائم ہے، جس میں خاص طور پر تارکین وطن کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ وکلاء کا کہنا ہے کہ یہ فرانس کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا قدم ہے جہاں ان ایپس کے طریقہ کار کو براہ راست انسانی حقوق کی پامالی اور استحصال سے جوڑا گیا ہے۔

اس قانونی کارروائی کی بنیاد ایک 80 سے 90 صفحات پر مشتمل تفصیلی دستاویز ہے جس کے ساتھ سینکڑوں شواہد، گواہیاں اور دستاویزات منسلک ہیں جو ان ترسیلی کارکنوں کی روزمرہ زندگی کے تلخ حقائق کو بے نقاب کرتی ہیں۔ ان کارکنوں میں سے ایک بڑی تعداد غیر ملکی شہریوں کی ہے جو معمولی اجرت کے بدلے شدید ترین حالات میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ پلیٹ فارمز ایک ایسے قانونی خلا کا فائدہ اٹھا رہے ہیں جو گزشتہ دس سالوں سے برقرار ہے۔ شکایت کنندگان کا الزام ہے کہ کمپنیاں ان تارکین وطن کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر انہیں ایسے کاموں پر لگاتی ہیں جن کے بدلے ملنے والا معاوضہ انسانی وقار کے منافی ہے۔ اگرچہ اوبر ایٹس اور ڈیلیوروز نے ان الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے، لیکن انسانی حقوق کے علمبرداروں کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی سطح تک ان پلیٹ فارمز کے استحصالی رویوں پر تشویش کا اظہار کیا جا چکا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق فرانس میں تقریباً 70,000 سے ایک لاکھ کے قریب ڈیلیوری رائیڈرز موجود ہیں، جن میں سے ایک حالیہ سروے کے مطابق 98 فیصد بیرون ملک پیدا ہوئے اور 64 فیصد کے پاس قانونی دستاویزات تک موجود نہیں ہیں۔ یہ غیر یقینی صورتحال انہیں مزید کمزور بنا دیتی ہے، جہاں وہ اوسطاً ہفتے میں 63 گھنٹے کام کرنے کے بعد بھی صرف 1,480 یورو ماہانہ کما پاتے ہیں۔ سب سے بڑی خرابی کام کے بدلے ادائیگی کے نظام میں ہے جہاں فی گھنٹہ اجرت کے بجائے فی ڈیلیوری معاوضہ دیا جاتا ہے۔ بعض صورتوں میں رائیڈرز کو 20 کلومیٹر سائیکل چلانے پر صرف 3 یورو دیے جاتے ہیں، جو کہ سراسر ناانصافی ہے۔ کمپنیوں کا دعویٰ ہے کہ وہ کم از کم فی گھنٹہ اجرت کے معاہدوں کی پابندی کرتی ہیں، لیکن زمینی حقائق یہ ہیں کہ رائیڈرز ایپس کے الگورتھم پر اس حد تک منحصر ہیں کہ وہ کسی بھی قسم کی شرائط قبول کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

مزدوروں کی جسمانی اور ذہنی صحت پر پڑنے والے اثرات بھی انتہائی تشویشناک ہیں۔ طبی رپورٹس ظاہر کرتی ہیں کہ ان کارکنوں کی اکثریت کمر، کندھوں اور جوڑوں کے درد کے علاوہ نفسیاتی دباؤ اور بے چینی کا شکار ہے۔ کام کے دوران کسی حادثے یا چوٹ کی صورت میں یہ کمپنیاں کسی قسم کی ذمہ داری قبول نہیں کرتیں، بلکہ رائیڈرز کا کہنا ہے کہ حادثے کی صورت میں کمپنی کا پہلا سوال یہ ہوتا ہے کہ “کیا آرڈر محفوظ ہے؟” بجائے اس کے کہ کارکن کی خیریت دریافت کی جائے۔ شدید بارشوں اور برف باری کے دوران، جب سڑکیں خطرناک حد تک پھسلن والی ہوتی ہیں، یہ پلیٹ فارمز معمولی بونس دے کر رائیڈرز کو سڑکوں پر نکلنے کی ترغیب دیتے ہیں، جو ان کی زندگیوں کو داؤ پر لگانے کے مترادف ہے۔ اس کے علاوہ، غیر دستاویزی تارکین وطن کو بلیک میلنگ اور اکاؤنٹ رینٹل کے نام پر استحصال کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے جہاں وہ اپنی کمائی کا ایک بڑا حصہ اکاؤنٹ مالکان کو دینے پر مجبور ہوتے ہیں۔

مزدور تنظیموں نے اب ان کمپنیوں کو ‘امتیازی سلوک’ کے خلاف کلاس ایکشن سوٹ (اجتماعی مقدمہ) کی دھمکی بھی دی ہے، جس کا مرکز وہ خفیہ الگورتھم ہے جو ڈیلیوری کی تقسیم اور معاوضے کا تعین کرتا ہے۔ رائیڈرز کا گلہ ہے کہ ایک ہی کام کے لیے مختلف کارکنوں کو مختلف معاوضہ دیا جاتا ہے اور اس کا طریقہ کار مکمل طور پر مبہم ہے۔ اگر 30 دن کے اندر ان مسائل کا کوئی تسلی بخش حل نہ نکالا گیا تو یہ معاملہ پیرس کی عدالت میں جائے گا تاکہ متاثرہ کارکنوں کو ہرجانہ دلایا جا سکے۔ اس قانونی جنگ کا بنیادی مقصد ان پلیٹ فارمز کو بند کرنا نہیں بلکہ انہیں ایک انسانی ضابطہ اخلاق کا پابند بنانا ہے تاکہ وہ اپنے کارکنوں کو انسان سمجھیں اور انہیں وہ تمام حقوق فراہم کریں جو ایک مہذب معاشرے میں کسی بھی محنت کش کا حق ہوتے ہیں۔ کارکنوں کی امید ہے کہ یہ مقدمہ فرانسیسی حکومت کو ان پلیٹ فارمز کے حوالے سے سخت قانون سازی کرنے پر مجبور کرے گا۔
کیا یورپ کے باقی ملکوں میں بھی رائڈرز کے ساتھ ناانصافی ہوتی ہے ؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں