مشرقِ وسطیٰ کی جنگ اور بدلتی ہوئی عالمی طاقت
تحریر
ملک وسیم اختر
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر آگ اور بارود کی لپیٹ میں ہے۔ ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ نے نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کی سیاست کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ جنگ کو دوسرا ہفتہ شروع ہو چکا ہے اور ہر گزرتا دن عالمی طاقت کے توازن کے بارے میں نئے سوالات کھڑے کر رہا ہے۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد دنیا بھر میں یہ تاثر پیدا کیا جا رہا تھا کہ شاید ایران کمزور پڑ جائے گا۔ مگر حالات نے اس کے برعکس منظر پیش کیا۔ ایران نے جس انداز میں اسرائیل اور امریکہ کو جواب دیا ہے اس نے عالمی مبصرین کو حیران کر دیا ہے۔ ایران کے پاس اگرچہ روایتی معنوں میں بڑی فضائیہ نہیں ہے، لیکن اس کے میزائل پروگرام اور ڈرون ٹیکنالوجی نے اسے ایک ایسی طاقت بنا دیا ہے جسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہا۔
ایران مسلسل میزائل اور ڈرون حملوں کے ذریعے اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنا رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال امریکہ کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے کیونکہ اس جنگ نے پورے خطے کو غیر یقینی صورتحال میں دھکیل دیا ہے۔
سب سے حیران کن پہلو عرب ممالک کی خاموشی ہے۔ خلیجی ریاستیں، جہاں امریکہ کے بڑے فوجی اڈے موجود ہیں، اس پورے معاملے پر غیر معمولی خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ نہ کوئی کھلا ردعمل، نہ ہی ایران کے خلاف براہ راست کوئی فوجی اقدام۔ سیاسی تجزیہ کار اس خاموشی کو محض اتفاق نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے سفارتی رویے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
دوسری طرف عالمی طاقتوں کی صف بندیاں بھی واضح ہوتی جا رہی ہیں۔ روس اور چین کھل کر ایران کے ساتھ کھڑے نظر آ رہے ہیں۔ دونوں ممالک نے مختلف سفارتی اور سیاسی فورمز پر ایران کے مؤقف کی حمایت کی ہے۔ اگر یہ حمایت اسی طرح جاری رہی تو یہ تنازعہ صرف مشرقِ وسطیٰ کی جنگ نہیں رہے گا بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان ایک بڑی کشمکش میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
یورپ کے اندر بھی اس جنگ پر اختلافات دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ سپین، فرانس اور دیگر یورپی ممالک کی جانب سے ایسے بیانات سامنے آئے ہیں جن میں کہا گیا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں اور تنازعات کو سفارت کاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے بھی یہ سوال اٹھایا گیا کہ کیا اس جنگ سے پہلے عالمی سطح پر مشاورت کی گئی تھی یا نہیں۔
خطے میں ایک اور پہلو جو تجزیہ کاروں کی توجہ حاصل کر رہا ہے وہ جنوبی ایشیا کی صورتحال ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو بعض مبصرین وسیع تر علاقائی سیاست کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ عالمی سطح پر جاری کشیدگی کے اثرات مختلف خطوں میں بھی محسوس کیے جا رہے ہیں۔
یہ تمام حالات ایک بڑے سوال کی طرف اشارہ کر رہے ہیں: کیا دنیا ایک نئے عالمی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے؟ گزشتہ کئی دہائیوں سے امریکہ عالمی سیاست میں سب سے طاقتور ملک سمجھا جاتا رہا ہے، مگر اب حالات بدلتے نظر آ رہے ہیں۔ چین کی معاشی طاقت، روس کی عسکری طاقت اور مختلف علاقائی طاقتوں کا ابھار عالمی نظام کو کثیر القطبی بنا رہا ہے۔
مشرقِ وسطیٰ میں جاری یہ جنگ شاید اسی بڑی تبدیلی کا حصہ ہے۔ اگر یہ تنازعہ مزید پھیلتا ہے تو اس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور عالمی سیاست پر گہرے ہوں گے۔ تیل کی قیمتوں سے لے کر عالمی تجارت تک ہر شعبہ اس کے اثرات سے متاثر ہو سکتا ہے۔
تاریخ ہمیں یہ بھی بتاتی ہے کہ جنگیں اکثر طاقت کے توازن کو بدل دیتی ہیں۔ آج جو کچھ مشرقِ وسطیٰ میں ہو رہا ہے وہ شاید آنے والے کل کی دنیا کی شکل طے کر رہا ہے۔
لیکن اس تمام صورتحال میں ایک حقیقت سب سے اہم ہے: جنگ ہمیشہ تباہی لاتی ہے۔ عام انسان، معیشت اور امن سب اس کی قیمت ادا کرتے ہیں۔ اسی لیے عالمی برادری کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس بحران کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے فوری سفارتی اقدامات کرے۔
مشرقِ وسطیٰ کی یہ جنگ صرف چند ممالک کی لڑائی نہیں رہی، بلکہ یہ پوری دنیا کے مستقبل کا سوال بن چکی ہے۔
0






