0

سرحدوں سے پرے وفاداری تحریر ۔۔ ملک وسیم اختر

سرحدوں سے پرے وفاداری

تحریر ۔۔ ملک وسیم اختر

میرا اج کا کالم دیگر کالمز سے ہٹ کر ہے لیکن پاکستان کی ایسی تاریخ کا حصہ جسے بہت سے پاکستانی نہی جانتے
دنیا میں ایسے لوگ کم ہی ملتے ہیں جو اپنی پیدائش کی سرزمین سے ہزاروں میل دور جا کر کسی دوسرے ملک کی ترقی میں اس طرح حصہ ڈالیں کہ وہ اس ملک کی تاریخ کا حصہ بن جائیں۔ پاکستان کی تاریخ میں بھی ایک ایسی ہی شخصیت کا نام ملتا ہے — Władysław Turowicz۔ وہ پولینڈ میں پیدا ہوئے مگر اپنی قابلیت، محنت اور وفاداری کے ذریعے پاکستان کے دفاعی اور سائنسی سفر کے اہم کرداروں میں شامل ہو گئے۔
ولادیسواف تورووچ 1908 میں پولینڈ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے انجینئرنگ اور ہوا بازی کے شعبے میں تعلیم حاصل کی اور جلد ہی ایوی ایشن کی دنیا میں اپنا مقام بنا لیا۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران جب جرمنی نے پولینڈ پر حملہ کیا تو یورپ کی سیاسی اور عسکری صورتحال یکسر بدل گئی۔ اس جنگ میں بہت سے پولش فوجی برطانیہ چلے گئے اور اتحادی افواج کے ساتھ شامل ہو کر لڑے۔ تورووچ بھی انہی افسروں میں شامل تھے جنہوں نے جنگ کے سخت حالات کا سامنا کیا۔
جنگ کے اختتام پر پولینڈ میں کمیونسٹ حکومت قائم ہو گئی جس کے بعد کئی پولش فوجیوں نے اپنے وطن واپس نہ جانے کا فیصلہ کیا۔ انہی حالات میں تورووچ برطانیہ کے راستے برصغیر پہنچے۔ 1947 میں جب پاکستان ایک نئی ریاست کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرا تو اسے ہر شعبے میں ماہر افراد کی ضرورت تھی۔ اسی پس منظر میں تورووچ کو نئی قائم ہونے والی Pakistan Air Force میں خدمات انجام دینے کا موقع ملا۔
انہوں نے اس موقع کو صرف ایک ملازمت کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ اسے ایک نئی قوم کی تعمیر میں حصہ لینے کا موقع سمجھا۔ پاکستان ایئر فورس کے ابتدائی برسوں میں تکنیکی ماہرین اور تربیت یافتہ انجینئرز کی شدید کمی تھی۔ تورووچ نے ایئر فورس کے انجینئرنگ اور تربیتی نظام کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی محنت اور صلاحیتوں کے باعث وہ Air Commodore کے عہدے تک پہنچے، جو اس بات کا واضح ثبوت تھا کہ پاکستان نے ان کی خدمات کو کس قدر قدر کی نگاہ سے دیکھا۔
ان کی خدمات صرف فضائیہ تک محدود نہیں رہیں۔ انہوں نے پاکستان کے ابتدائی خلائی پروگرام میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ اس مقصد کے لیے قائم ہونے والے ادارے SUPARCO کے ابتدائی منصوبوں میں انہوں نے تکنیکی رہنمائی فراہم کی۔ 1960 کی دہائی میں پاکستان نے اپنا پہلا تجرباتی ساؤنڈنگ راکٹ Rehbar-I کامیابی سے لانچ کیا۔ اس تاریخی کامیابی کے پس منظر میں بھی ان جیسے ماہرین کی محنت شامل تھی۔ اسی طرح بلوچستان میں واقع Sonmiani Test Range کے قیام اور ترقی میں بھی انہوں نے اہم کردار ادا کیا۔
تورووچ کی ذاتی زندگی بھی پاکستان سے گہرے تعلق کی عکاس تھی۔ ان کی اہلیہ Zofia Turowicz بھی پولینڈ سے تعلق رکھتی تھیں مگر پاکستان آ کر انہوں نے تعلیم کے شعبے میں خدمات انجام دیں۔ کراچی میں انہوں نے تدریس اور سماجی کاموں کے ذریعے معاشرے میں اپنا مثبت کردار ادا کیا۔
ان کے خاندان کی ایک دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ ان کی بیٹیوں نے پاکستان اور جنوبی ایشیا کے معاشروں سے مضبوط تعلق قائم کیا۔ ان کی دو بیٹیوں نے پاکستانی مردوں سے شادی کی جبکہ ایک بیٹی نے ایک بنگالی شخص سے شادی کی۔ یوں ان کا خاندان مختلف ثقافتوں کے درمیان ایک خوبصورت ربط کی مثال بن گیا۔
وقت کے ساتھ تورووچ نے پاکستان کو اپنا مستقل وطن بنا لیا اور پاکستانی شہریت اختیار کر لی۔ انہوں نے اپنی زندگی کے کئی اہم سال اس ملک کی ترقی اور دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانے میں صرف کیے۔ 1980 میں ان کا انتقال ہوا اور انہیں کراچی کے کرسچن قبرستان میں سپردِ خاک کیا گیا۔ ان کی قبر اس بات کی یاد دلاتی ہے کہ ایک پولینڈ میں پیدا ہونے والا شخص اپنی محنت اور وفاداری کے ذریعے پاکستان کی تاریخ کا حصہ بن گیا۔
ولادیسواف تورووچ کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ کسی ملک سے محبت صرف پیدائش سے نہیں بلکہ خدمت سے بھی ثابت ہوتی ہے۔ انہوں نے سرحدوں، زبانوں اور ثقافتوں اور مذاہب سے بالاتر ہو کر ایک نئی قوم کے خواب کو حقیقت بنانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی پاکستان کی دفاعی اور سائنسی تاریخ میں ان کا نام احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں