0

جعلی حافظ اور اللہ والا

جعلی حافظ اور اللہ والا
تحریر ۔۔۔ ملک وسیم اختر
تاریخ نے ہمیشہ سچ اور جھوٹ کو پرکھنے کے پیمانے دیے ہیں۔ کچھ لوگ وقت کی کرسی پر قابض ہو جاتے ہیں، لیکن وہ تخت نہیں سنبھالتے بلکہ اپنے غرور اور رعونت کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔ آج بھی ایک ایسا ہی جعلی حافظ ہمارے سامنے کھڑا ہے—زبان پر قرآن کے الفاظ، مگر دل میں فرعون کی ہوسِ اقتدار۔ وہ طاقت کے زور پر ریاست کا سربراہ تو بن گیا، مگر اصل سربراہی جسے ایمان، اخلاص اور تقویٰ کہتے ہیں، اُس سے وہ کوسوں دور ہے۔

اس کے مقابلے میں ایک اللہ والا شخص ہے، جو جیل کی سلاخوں کے پیچھے بیٹھا ہے۔ بظاہر پابندِ سلاسل، لیکن دراصل آزاد۔ وہ آزاد ہے اس لیے کہ اُس نے دل کی غلامی کو توڑ کر کہا:
“ایاک نعبد و ایاک نستعین”
ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں، اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔

یہی جملہ اُس کی ساری حقیقت بیان کر دیتا ہے۔ وہ کسی دنیاوی طاقت کے سامنے نہیں جھکا۔ وہ اس جعلی حافظ کے دربار میں جھک سکتا تھا، اپنی زبان کو چاپلوسی میں لگا کر دنیاوی آرام حاصل کر سکتا تھا، مگر اُس نے جیل کی سختی کو چُنا اور اللہ کے حضور سر جھکا دیا۔ یہی اصل عزت ہے، اور یہی اصل غیرت۔

جعلی حافظ کے بارے میں سوچیں۔ یہ وہی کردار ہے جو قرآن کی آیات زبان پر لاتا ہے مگر عمل شیطان کا کرتا ہے۔ شیطان نے بھی تکبر میں اللہ کے حکم کے آگے سر نہ جھکایا، اور ردِ درگاہ ہو گیا۔ آج یہی حال اس جعلی حافظ کا ہے—اللہ کے دین کو اپنی سیاست کی ڈھال بنانا، طاقت کو خدا سمجھنا، اور صحافیوں سے جھوٹی تعریفیں لکھوانا۔ یہ سب اُسے اور زیادہ ذلیل ہی کر رہا ہے۔

لیکن وہ اللہ والا، جو قید میں ہے، اُس کا کردار بالکل برعکس ہے۔ وہ حضرت ابراہیمؑ کی یاد دلاتا ہے جنہیں آگ میں پھینکا گیا مگر وہ ڈرے نہیں، وہ امام حسینؓ کی یاد دلاتا ہے جو یزید کے سامنے کھڑے رہے اور کہہ دیا: “ہمارا سر کٹ سکتا ہے، جھک نہیں سکتا۔”

یہی فرق ہے باطل اور حق میں۔ جعلی حافظ تخت پر بیٹھا بھی ہو تو ذلیل ہے، اور اللہ والا جیل میں ہو کر بھی سرخرو ہے۔

تاریخ کے اوراق گواہ ہیں کہ جب بھی طاقت کو خدا بنا کر ظلم کیا گیا، انجام رسوائی کے سوا کچھ نہ نکلا۔ آج ایک جعلی حافظ طاقت کے نشے میں ریاست پر قابض ہے۔ زبان پر قرآن، مگر دل میں فرعون کا غرور۔ وہ سمجھتا ہے کہ اس کے فیصلوں سے تقدیریں بدل جائیں گی، لیکن وہ بھول جاتا ہے کہ تقدیر کا مالک صرف اللہ ہے۔

اس کے مقابلے میں ایک اللہ والا شخص ہے جو جیل کی سلاخوں کے پیچھے بیٹھا ہے۔ بظاہر تنہا، مگر دراصل کروڑوں دلوں کا مرکز۔ اُس کی زبان سے ایک ہی صدا بلند ہوتی ہے:
“ایاک نعبد و ایاک نستعین”
ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔

اس اللہ والے کے خلاف صرف جعلی حافظ ہی نہیں، بلکہ پورا نظام کھڑا ہے۔ جج اپنی کرسیوں کے فیصلے بیچ کر اس کے خلاف ہیں۔ جرنیل اپنی وردیوں کے غرور میں اس کے دشمن ہیں۔ سیاستدان اپنی کرسیوں کے لالچ میں اس کے مخالف ہیں۔ نام نہاد صحافی اپنی قلم بیچ کر اس کے خلاف کالم لکھتے ہیں۔ پولیس اپنی طاقت کے گھمنڈ میں اس پر جھوٹے مقدمے بناتی ہے۔ پالیسی ساز اپنی سازشوں کے جال بچھاتے ہیں۔

یوں لگتا ہے جیسے سب نے مل کر ایک انسان کو مٹانے کا فیصلہ کر لیا ہو۔ جھوٹے پروپیگنڈے، غلیظ مہمات، بے بنیاد الزامات—سب کچھ آزما لیا گیا۔ لیکن ہر وار الٹا پڑتا ہے۔ یہ جتنا مائنس کرتے ہیں، اللہ اتنا ہی پلس کرتا جاتا ہے

یہ سب دیکھ کر انسان کو قرآن کی وہ آیت یاد آتی ہے:
“وتعز من تشاء و تذل من تشاء”
(اللہ جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت دے)

آج حال یہ ہے کہ جیل میں بیٹھا وہ اللہ والا عزت کی بلندیوں پر ہے۔ پاکستان کی نوّے فیصد عوام اس کے ساتھ ہے۔ اس کی آواز گھروں میں، گلیوں میں، مسجدوں اور دفتروں میں گونج رہی ہے۔ اس کی محبت دلوں پر حکمرانی کر رہی ہے۔

اور دوسری طرف وہ جعلی حافظ ہے، جو تخت پر بیٹھا بھی ہے تو خوف میں ڈوبا ہوا، عوام کی نظروں میں رسوا، اور تاریخ کے سامنے مجرم یہی ہے فرق حق اور باطل کا۔ باطل چاہے ہزار سازشیں کر لے، جھوٹ کے پہاڑ کھڑے کر دے، لیکن اللہ کی تقدیر کے سامنے سب ڈھیر ہو جاتا ہے۔ عزت کا تاج صرف اس کے سر پر رکھا جاتا ہے جو اللہ کا سچا بندہ ہو۔

جعلی حافظ کو لوگ یاد نہیں رکھیں گے، لیکن جیل کی سلاخوں میں بیٹھا یہ اللہ والا اپنی صداقت، صبر اور استقامت کی وجہ سے ہمیشہ زندہ رہے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں