سابق عالمی کرکٹ کپتانوں کی عمران خان کے لیے انسانی حقوق اور طبی سہولیات کی اپیل
لندن: (الیون نیوز ) دنیا بھر کے ممتاز سابق بین الاقوامی کرکٹ کپتانوں نے پاکستان کے سابق وزیراعظم اور عالمی شہرت یافتہ کرکٹر عمران خان کی صحت، قید کے حالات اور قانونی حقوق سے متعلق گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومتِ پاکستان سے ایک باقاعدہ اپیل جاری کی ہے۔

17 فروری 2026 کو جاری کردہ اس مشترکہ بیان میں سابق کرکٹ کپتانوں جن میں
مائیکل ایتھرٹن
ایلن بارڈر
مائیکل بریرلی
گریگ چیپل
ایان چیپل
بیلنڈا کلارک
سنیل گواسکر
ڈیوڈ گوور
کم ہیوز
ناصر حسین
کلائیو لائیڈ
کپل دیو
اسٹیفن وا
جان رائٹ شامل ہیں نے عمران خان کے ساتھ روا رکھے جانے والے مبینہ سلوک اور حراست کے دوران ان کی صحت، بالخصوص بینائی میں بگاڑ سے متعلق رپورٹس کو تشویشناک قرار دیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ عمران خان نہ صرف پاکستان کے 1992 کے ورلڈ کپ فاتح کپتان ہیں بلکہ عالمی کرکٹ کے ایک لیجنڈ اور ایک منتخب جمہوری رہنما بھی رہ چکے ہیں۔
اپیل میں کہا گیا کہ عمران خان کی کرکٹ خدمات، قیادت، کھیل کے اصولوں اور اسپورٹس مین اسپرٹ نے دنیا بھر میں نسلوں کو متاثر کیا۔ سابق کپتانوں کے مطابق میدانِ کرکٹ میں مقابلہ ختم ہو جاتا ہے مگر احترام ہمیشہ باقی رہتا ہے، اور عمران خان نے اپنے پورے کیریئر میں اسی جذبے کی نمائندگی کی۔
سابق کرکٹ کپتانوں نے حکومتِ پاکستان سے مطالبہ کیا کہ عمران خان کو
ان کی پسند کے مستند ماہر ڈاکٹروں سے فوری، مناسب اور مسلسل طبی سہولیات فراہم کی جائیں،
قید کے دوران بین الاقوامی انسانی حقوق کے معیار کے مطابق باعزت اور انسانی حالات یقینی بنائے جائیں، جن میں قریبی اہلِ خانہ سے ملاقات کی اجازت شامل ہو،
اور بغیر کسی تاخیر یا رکاوٹ کے شفاف اور منصفانہ قانونی عمل تک مکمل رسائی دی جائے۔
بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ یہ اپیل کسی سیاسی مؤقف کے بغیر، محض کھیلوں کی روایات، انسانی ہمدردی اور انصاف کے اصولوں کے تحت کی جا رہی ہے۔
اس اپیل پر دستخط کرنے والوں میں سابق انگلش کپتان مائیکل ایتھرٹن، آسٹریلیا کے ایلن بارڈر اور اسٹیو وا، بھارت کے لیجنڈ سنیل گواسکر اور کپل دیو، ویسٹ انڈیز کے کلائیو لائیڈ، پاکستان نژاد انگلش کرکٹر ناصر حسین سمیت دنیا کے دیگر نامور سابق کپتان شامل ہیں۔
سابق کرکٹ کپتانوں نے عالمی برادری اور متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ عمران خان کے ساتھ انصاف، شائستگی اور انسانی وقار کے اصولوں کے مطابق سلوک کو یقینی بنایا جائے۔






