پنجاب میں سیاہ شیشوں سے متعلق قانون میں اہم ترمیم
فیکٹری فِٹ ٹنٹڈ گلاس رکھنے والی گاڑیاں قانونی قرار
لاہور(الیون نیوز )حکومتِ پنجاب نے موٹر وہیکلز آرڈیننس 1965 میں اہم ترمیم کرتے ہوئے سیاہ شیشوں (Tinted Glasses) سے متعلق قانون میں واضح تبدیلیاں کر دی ہیں۔ یہ ترمیم پنجاب گزٹ (غیر معمولی) میں 25 نومبر 2025 کو شائع کر دی گئی ہے، جس کے بعد فیکٹری میں نصب شدہ ٹنٹڈ یا ڈارکنڈ شیشوں والی گاڑیوں کے لیے قانونی حیثیت واضح ہو گئی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق آرڈیننس میں نئی دفعہ 89-C شامل کی گئی ہے، جس کے تحت کسی بھی ایسی موٹر گاڑی کے استعمال پر پابندی ہوگی جس کی ونڈ اسکرین، سائیڈ یا پچھلی کھڑکیوں پر سیاہ، رنگین یا گہرے شیشے، فلم یا کوئی اور مواد لگا ہو جو حکومت کی جانب سے مقرر کردہ حد سے زیادہ نظر (Visibility) کم کرے۔
تاہم قانون میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ یہ پابندی ہر صورت لاگو نہیں ہوگی۔ ترمیم کے مطابق دو قسم کی گاڑیوں کو اس قانون سے استثنا حاصل ہوگا۔
پہلی قسم میں وہ گاڑیاں شامل ہیں جنہیں حکومت یا کسی مجاز اتھارٹی کی جانب سے تحریری طور پر سکیورٹی یا دیگر جائز وجوہات کی بنیاد پر اجازت دی گئی ہو، بشرطیکہ وہ حکومت کی مقرر کردہ شرائط پر پورا اترتی ہوں۔
دوسری اور اہم شق کے تحت وہ گاڑیاں جن میں سیاہ یا گہرے شیشے گاڑی بنانے والی کمپنی کی جانب سے فیکٹری میں نصب کیے گئے ہوں، انہیں قانونی قرار دیا گیا ہے، لیکن اس شرط کے ساتھ کہ ایسے شیشے حکومت کے مقرر کردہ حفاظتی اور نظر کے معیار (Visibility & Safety Standards) پر پورا اترتے ہوں۔
حکام کے مطابق اس ترمیم کا مقصد ٹریفک قوانین میں پائی جانے والی ابہام کو ختم کرنا اور شہریوں کو غیر ضروری جرمانوں اور مشکلات سے بچانا ہے۔ ماضی میں فیکٹری فِٹ ٹنٹڈ گلاس رکھنے والی گاڑیوں کے خلاف بھی کارروائیاں کی جاتی رہی ہیں، جس پر عوام کی جانب سے بارہا اعتراضات سامنے آئے تھے۔
ٹریفک پولیس حکام کا کہنا ہے کہ آئندہ کارروائی صرف ان گاڑیوں کے خلاف کی جائے گی جن میں غیر قانونی طور پر فلم یا اضافی سیاہ شیشے لگائے گئے ہوں، جبکہ کمپنی کی جانب سے نصب شدہ شیشوں والی گاڑیوں کو قانون کے دائرے میں تحفظ حاصل ہوگا۔
قانونی ماہرین کے مطابق یہ ترمیم شہریوں کے حقوق کے تحفظ اور قانون کے یکساں نفاذ کی جانب ایک اہم قدم ہے، تاہم انہوں نے عوام کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی گاڑیوں کے شیشوں کی Visibility سرکاری معیار کے مطابق ضرور چیک کروائیں تاکہ کسی قانونی پیچیدگی سے بچا جا سکے۔
0






