0

حکومت کا ورک ویزہ کے لیے نیا حلف نامہ متعارف، عوام نے اسے غلط اور غیر ضروری اقدام قرار دے دیا

حکومت کا ورک ویزہ کے لیے نیا حلف نامہ متعارف، عوام نے اسے غلط اور غیر ضروری اقدام قرار دے دیا

اسلام آباد (طلحہ راجہ) حکومتِ پاکستان نے بیرونِ ملک جانے والے افراد کے لیے ایک نیا “ورک ویزہ کے لیے حلف نامہ” لازمی قرار دے دیا ہے، جس کے تحت ہر امیدوار کو اپنے کردار، مذہبی رجحان، اور سماجی پس منظر سے متعلق تفصیلی حلف دینا ہوگا۔

دستاویز کے مطابق امیدوار یہ اقرار کرتا ہے کہ وہ کسی مجرمانہ سرگرمی، فرقہ وارانہ یا انتہا پسند تنظیم، یا غیر سماجی گروہ سے تعلق نہیں رکھتا۔ مزید یہ کہ بیرونِ ملک جا کر وہ کسی ایسے عمل میں شریک نہیں ہوگا جس سے پاکستان یا میزبان ملک کی ساکھ متاثر ہو۔

امیدوار کو اپنے بارے میں درج ذیل نکات پر حلفاً تصدیق کرنی ہوتی ہے

عمومی شہرت (General Reputation)

مذہبی و فرقہ وارانہ رجحان (Religious/Sectarian Tendency)

جذباتی رجحان (Emotional Tendency)

مقامی جھگڑوں یا تنازعات میں شمولیت (Involvement in Local Feuds)

سماجی گروہوں سے وابستگی (Association with Anti-Social Groups)

سرکاری حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام سیکیورٹی اسکریننگ بہتر بنانے اور پاکستانی ورکرز کی عالمی ساکھ برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ تاہم، عوامی حلقوں اور سماجی تنظیموں نے اس فیصلے کو غیر ضروری اور غیر مؤثر قرار دیا ہے۔

راولپنڈی کے ایک شہری احمد رضا کا کہنا ہے کہ “یہ ایک غیر ضروری ا قدم ہے۔ جن لوگوں نے غلط کام کرنے ہوتے ہیں وہ ایسے کاغذوں سے نہیں رکتے، البتہ عام شہریوں کے لیے یہ ایک اضافی رکاوٹ بن گئی ہے۔

کراچی کی ایک نجی کمپنی میں کام کرنے والی صائمہ علی نے کہا کہ “حکومت کو عوام کے روزگار کے مواقع آسان بنانے چاہییں، نہ کہ مزید کاغذی کارروائیوں سے مشکل پیدا کرے۔

سوشل میڈیا پر بھی اس اقدام پر تنقید کی جا رہی ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ حکومت کو حقیقی ریفارمز اور شفاف ویری فکیشن سسٹم پر توجہ دینی چاہیے، نہ کہ غیر ضروری دستاویزات بڑھانے پر۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں