مہنگائی کا طوفان: پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پھر اضافہ، حکومت عوام پر مہنگائی کا بم گرانے میں مصروف۔۔ نوٹیفکیشن جاری

اسلام آباد (طلحہ راجہ)16 جولائی 2025:
پاکستانی عوام کے لیے ایک اور بری خبر! وفاقی حکومت نے ایک بار پھر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بے رحم اضافہ کر دیا ہے، جس سے ملک بھر میں مہنگائی کا نیا طوفان کھڑا ہو گیا ہے۔
تازہ اضافہ:
پیٹرول 5.36 روپے فی لیٹر مہنگا کر کے نئی قیمت 272.15 روپے کر دی گئی۔
ہائی سپیڈ ڈیزل 11.37 روپے فی لیٹر مہنگا ہو کر 284.35 روپے فی لیٹر ہو گیا۔
یہ اضافہ 16 جولائی سے 30 جولائی تک نافذ العمل رہے گا۔
حکومتی دعوے، عوامی حقیقت سے میل نہیں کھاتے
حکومت نے قیمتوں میں اضافے کو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں سے جوڑا ہے، مگر اعداد و شمار حکومتی بیانیے کی قلعی کھول دیتے ہیں:
بین الاقوامی نرخ:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت فی بیرل 78 ڈالر سے نیچے ہے — جو گزشتہ مہینوں کی نسبت کم ہے۔
پیٹرول (Octane‑95) کی عالمی اوسط قیمت 1.29 ڈالر فی لیٹر ہے، جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً 368 روپے بنتی ہے۔
لیکن قابلِ غور بات یہ ہے کہ دنیا کے دیگر ممالک میں ٹیکسز اور لیوی کے باوجود عوام کو سبسڈی فراہم کی جاتی ہے، جبکہ پاکستان میں حکومت ہر دو ہفتے بعد نرخ بڑھا کر مہنگائی کو مزید ہوا دے رہی ہے۔
عوامی ردِعمل: ’’یہ اضافہ نہیں، معاشی قتل ہے!‘‘
ملک بھر میں اس فیصلے پر شدید عوامی غصہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ:
تنخواہیں ویسے کی ویسی ہیں، روزگار ختم ہو رہا ہے، اور حکومت ہر مہینے مہنگائی کا بم گرا دیتی ہے۔ یہ تو ظلم ہے!
عالمی قیمتیں نیچے جا رہی ہیں، اور ہمارے ہاں بڑھ رہی ہیں؟ آخر یہ حکومت کس کے مفاد میں فیصلے کر رہی ہے؟ جولائی میں مجموعی اضافہ:
تاریخ پیٹرول میں اضافہ ڈیزل میں اضافہ
1 جولائی +8.36 روپے +10.39 روپے
16 جولائی +5.36 روپے +11.37 روپے
مجموعی 13.72 روپے 21.76 روپے
صرف جولائی کے مہینے میں دو بار قیمتیں بڑھائی گئیں، جو ثابت کرتا ہے کہ حکومت مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے بجائے خود اس کی ذمہ دار بن چکی ہے۔
اصل وجہ: حکومت کا مالی بحران عوام کے کندھوں پر
حکومت بجائے اپنی شاہ خرچیوں اور غیر ضروری اخراجات کو محدود کرنے کے، ہر بار عوام کو قربانی کا بکرا بناتی ہے۔ آئی ایم ایف کی شرائط، غلط پالیسی سازی، اور کرپشن کا بوجھ اب عوام کی جیبوں سے نکالا جا رہا ہے۔
اپوزیشن اور ماہرین کیا کہتے ہیں؟
اپوزیشن رہنماؤں نے حکومت پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ:
یہ حکومت عوام دشمن پالیسیاں بنا رہی ہے، یہ اضافہ واپس نہ لیا گیا تو ہم سڑکوں پر آئیں گے۔
ماہرینِ معیشت کا کہنا ہے کہ:
عالمی قیمتوں میں کمی کے باوجود پاکستان میں اضافہ حکومتی نااہلی اور غلط ترجیحات کا نتیجہ ہے۔ ❞
مہنگائی کا کھیل بند کریں، عوام کو جینے دیں
یہ وقت عوام کو مزید دبانے کا نہیں بلکہ ریلیف دینے کا ہے۔ حکومت اگر واقعی سنجیدہ ہے تو اسے اپنی عیاشیاں ختم کر کے عوام کو سبسڈی دینی چاہیے۔ عالمی قیمتیں کم ہو رہی ہیں، مگر پاکستان میں الٹ ہی نظام چل رہا ہے۔ اگر یہی رویہ رہا تو مہنگائی کا یہ سیلاب کسی بڑے عوامی ردِعمل کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔






