0

پنجاب حکومت کا متنازع فیصلہ: 30 جون کے بعد صحت کارڈ کی سہولت مکمل طور پر ختم

پنجاب حکومت کا متنازع فیصلہ: 30 جون کے بعد صحت کارڈ کی سہولت مکمل طور پر ختم

جہلم (بیورو رپورٹ+الیون ) پنجاب حکومت نے غریب اور نادار شہریوں کے لیے مفت علاج کی سہولت فراہم کرنے والے صحت کارڈ پروگرام کو 30 جون 2025 سے مکمل طور پر بند کرنے کا حتمی اور حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد صوبے کے کسی بھی سرکاری ہسپتال میں صحت کارڈ کے ذریعے علاج ممکن نہیں ہوگا۔

پنجاب ہیلتھ انیشی ایٹو مینجمنٹ کمپنی (PHIMC) کی جانب سے تمام سرکاری ہسپتالوں کے سربراہان کو باقاعدہ مراسلہ جاری کیا گیا ہے، جس میں انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 30 جون سے پہلے صحت کارڈ کے تحت کیے گئے تمام واجبات کو کلیئر کر لیں، کیونکہ یکم جولائی سے یہ سہولت بند کر دی جائے گی۔

یہ صحت کارڈ اسکیم 2021 میں سابق وزیراعظم عمران خان کے دورِ حکومت میں شروع کی گئی تھی، جس کا مقصد ہر شہری کو بغیر مالی پریشانی کے معیاری علاج فراہم کرنا تھا۔ اس اسکیم کے تحت لاکھوں مریضوں کو مفت علاج میسر آیا، جس سے غریب طبقے نے بڑی حد تک فائدہ اٹھایا۔

تاہم موجودہ ن لیگ حکومت نے یہ سہولت بجٹ وجوہات نہیں بلکہ مبینہ طور پر سیاسی بنیادوں پر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ عوامی حلقوں اور تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حکومت نے یہ اقدام صرف اس لیے اٹھایا تاکہ عمران خان کے دور میں شروع کیے گئے منصوبوں کو ختم کیا جا سکے، بغضِ سیاست میں عوامی مفاد کو قربان کر دیا گیا ہے۔

عوامی ردعمل خاصا شدید ہے۔ سوشل میڈیا اور دیگر عوامی فورمز پر شہری اس فیصلے پر غم و غصے کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو غریبوں کی سہولیات بند کرنے کی بجائے کرپشن اور غیر ضروری اخراجات ختم کرنے چاہئیں۔ مزدور، کسان، تنخواہ دار اور کم آمدنی والے افراد کے لیے صحت کارڈ ایک امید کی کرن تھا جسے بجھا دیا گیا۔

عوامی و سماجی تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صحت کارڈ کی سہولت بحال کرے اور اسے سیاسی اختلافات کی بھینٹ نہ چڑھائے۔ عوامی فلاحی منصوبے سیاسی مفادات سے بالاتر ہونے چاہئیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں