0

حکومت کا زائدالمیعاد شناختی کارڈز پر جاری تمام سمز فوری بلاک کرنے کا فیصلہ پہلے مرحلے میں 2017ء اور اس سے پہلے کے شناختی کارڈز پر جاری سمز بند ہوں گی

حکومت کا زائدالمیعاد شناختی کارڈز پر جاری تمام سمز فوری بلاک کرنے کا فیصلہ
پہلے مرحلے میں 2017ء اور اس سے پہلے کے شناختی کارڈز پر جاری سمز بند ہوں گی

اسلام آباد(طلحہ راجہ)حکومت نے زائدالمیعاد شناختی کارڈز پر جاری تمام موبائل فون سمز کو مرحلہ وار بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد شناختی نظام کو بہتر بنانا، جعلی اور غیرقانونی شناختی دستاویزات کے ذریعے جاری کی گئی سمز کا خاتمہ کرنا اور قومی سلامتی کو مزید مستحکم بنانا ہے۔

ذرائع کے مطابق، پہلے مرحلے میں ان شناختی کارڈز پر جاری کی گئی تمام موبائل سمز کو بند کیا جائے گا جو 2017ء یا اس سے پہلے کے جاری کردہ ہیں اور جن کی میعاد ختم ہو چکی ہے۔ اس فیصلے پر عملدرآمد کا آغاز جلد متوقع ہے، اور موبائل کمپنیوں کو اس ضمن میں ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ نادرا کے ریکارڈ کے مطابق لاکھوں کی تعداد میں ایسی موبائل سمز اب بھی فعال ہیں جو زائدالمیعاد شناختی کارڈز پر جاری کی گئی تھیں۔ ان سمز کا استعمال متعدد غیر قانونی سرگرمیوں میں ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے، جن میں دھوکہ دہی، بلیک میلنگ، اور دیگر سائبر جرائم شامل ہیں۔

صارفین کے لیے ہدایات:
حکومت اور موبائل کمپنیوں کی جانب سے صارفین سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے شناختی کارڈز کی میعاد چیک کریں اور اگر کارڈ زائدالمیعاد ہو چکا ہے تو فوری طور پر نیا شناختی کارڈ بنوا کر موبائل کمپنی سے رجوع کریں تاکہ ان کی سمز بلاک نہ ہوں۔

متوقع اقدامات:

موبائل آپریٹرز صارفین کو SMS کے ذریعے اطلاع دیں گے۔

مخصوص ڈیڈ لائن دی جائے گی، جس کے بعد متعلقہ سمز بند کر دی جائیں گی۔

شناختی کارڈ کی تجدید کے بعد سم کی دوبارہ بحالی ممکن ہوگی۔

حکومتی مؤقف:
وزارت داخلہ اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) نے اس اقدام کو ضروری اور وقت کی اہم ضرورت قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ قومی ڈیجیٹل سیکورٹی کے لیے ناگزیر ہو چکا تھا، اور آئندہ اس حوالے سے مزید سخت اقدامات بھی متوقع ہیں۔

یہ اقدام اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ حکومت جعلی شناخت اور غیر رجسٹرڈ موبائل نمبرز کے خلاف سنجیدہ ہے، اور مستقبل میں ایسی مزید اصلاحات بھی متعارف کرائی جا سکتی ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں