چین کے ساتھ تجارتی پیش رفت: صدر ٹرمپ کا پہلا بڑا غیر ملکی دورہ کامیابی کا دعویٰ
واشنگٹن (الیون نیوز)صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دوسرے صدارتی دور کے پہلے بڑے غیر ملکی دورے پر روانگی سے قبل چین کے ساتھ تجارتی محاذ پر بڑی کامیابی کا دعویٰ کیا ہے۔ امریکہ اور چین کے درمیان جاری تجارتی کشیدگی میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے جس کے بعد دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر عائد اضافی محصولات میں 115 فیصد کی کمی پر اتفاق کر لیا ہے۔
یہ پیش رفت سوئٹزرلینڈ میں امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ اور چینی مذاکرات کاروں کے درمیان ہونے والی بات چیت کے نتیجے میں ہوئی۔ اگرچہ اس معاہدے کو صدر ٹرمپ کی بڑی سفارتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ چینی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا بوجھ عام امریکی صارف کو برداشت کرنا پڑے گا۔
صدر ٹرمپ اس وقت ایک وسیع سفارتی ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں جس میں یوکرین جنگ، ایران کے جوہری پروگرام، مشرق وسطیٰ میں کشیدگی، اور عالمی تجارتی معاہدے شامل ہیں۔ مشرق وسطیٰ کے حالیہ دورے سے قبل انہوں نے برطانیہ کے ساتھ نیا تجارتی معاہدہ بھی کیا ہے۔
ادھر عمان میں امریکی حکام اور ایرانی نمائندوں کے درمیان جوہری پروگرام پر براہ راست مذاکرات بدستور بے نتیجہ رہے ہیں۔ تاہم، بھارت اور پاکستان کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد امریکی دباؤ کے تحت دونوں ممالک عارضی سیز فائر پر آمادہ ہوئے، جس میں وزیر خارجہ مارکو روبیو اور نائب صدر جے ڈی وینس نے کلیدی کردار ادا کیا۔
صدر ٹرمپ کی کوششوں کے نتیجے میں یوکرینی صدر وولودومیر زیلنسکی، روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے ترکی میں مذاکرات پر راضی ہوئے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس عمل سے روس کو عالمی منظرنامے پر تقویت ملی ہے۔
صدر ٹرمپ نے اتوار کے روز اعلان کیا کہ حماس نے غزہ میں موجود آخری زندہ امریکی یرغمالی، ایڈن الیگزینڈر کو رہا کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت پر کیا گیا ہے جب وہ خلیجی ریاستوں سعودی عرب، قطر اور متحدہ عرب امارات کے دورے پر روانہ ہونے والے ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ صدر ٹرمپ کی سرگرمیوں نے سفارتی منظرنامے میں ہلچل مچا دی ہے، مگر کئی بحران دراصل انہی کی سابقہ پالیسیوں کا نتیجہ ہیں، جنہیں اب وہ خود حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔






