مصر: 3,000 سال پرانی ممی نے ’MRI اسکین‘ میں منہ کھول کر چیخنے کی نقل کی، ماہرین حیران
قاہرہ (الیون نیوز)مصر میں ماہرین آثار قدیمہ اُس وقت حیرت میں مبتلا ہو گئے جب 3,000 سال پرانی ایک ممی (محفوظ شدہ لاش) کے ایم آر آئی اسکین کے دوران ایسا صوتی نمونہ سامنے آیا جو انسان کی چیخ سے مشابہت رکھتا تھا۔
یہ ممی فرعون رامسس ششم کے دور کی ایک نامور شاہی شخصیت کی بتائی جا رہی ہے، جسے جدید سائنسی ٹیکنالوجی کے ذریعے اسکین کیا جا رہا تھا تاکہ اس کے گلے کے ڈھانچے اور آواز کے نظام کا تجزیہ کیا جا سکے۔ یہ ممی 1935 میں مصر کے شہر لکسور کے قریب دریافت ہوئی تھی۔ اس کی منہ کھلی حالت میں ہونے کی وجہ سے اسے “چیختی ہوئی عورت” کا نام دیا گیا۔
آواز کی نقل تیار کی گئی
سائنسدانوں نے ممی کے گلے کے حصے کا 3D ماڈل تیار کیا اور اسپیکر کے ذریعے اُس کی ممکنہ آواز سننے کی کوشش کی۔ حیران کن طور پر، اس عمل کے دوران ایک ’گھٹی گھٹی چیخ‘ جیسی آواز سنائی دی جس نے تمام ماہرین کو چونکا دیا۔
ماہر آثار قدیمہ ڈاکٹر نبیل حسن کا کہنا ہے:
“ہمیں اندازہ تھا کہ ہم اس کی ممکنہ آواز کا نمونہ نکال سکیں گے، لیکن یہ چیخ جیسی آواز سن کر ہمیں ایسا محسوس ہوا جیسے ماضی سے کوئی ہمیں کچھ کہنا چاہ رہا ہو۔”
حالیہ تحقیق کے مطابق، یہ ممکنہ طور پر “Unknown-Woman-A” ہے، جو 50 سال کی عمر میں شدید دل کے دورے کے باعث ہلاک ہوئی تھی۔ ممی کی حالت اور مہنگے مواد سے کی گئی حنوطی عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اعلیٰ طبقے سے تعلق رکھتی تھیں۔






