نجی تعلیمی اداروں کی فیسوں میں بے قابو اضافے پر راولپنڈی اور اسلام آباد کے والدین سراپا احتجاج، وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ سے مداخلت کا مطالبہ
راولپنڈی (طلحہ راجہ)راولپنڈی اور اسلام آباد کے رہائشیوں نے وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز سے اپیل کی ہے کہ وہ نجی تعلیمی اداروں کی فیسوں کے ڈھانچے کو باقاعدہ بنانے کے لیے فوری مداخلت کریں۔ والدین کا کہنا ہے کہ یہ اسکولز مالی طور پر خاندانوں کا استحصال کر رہے ہیں اور ان پر کوئی مناسب حکومتی نگرانی نہیں ہے۔
والدین کا کہنا ہے کہ بچوں کو نجی اداروں میں داخل کرانا اوسط آمدنی والے گھرانوں کے لیے تقریباً ناممکن ہو چکا ہے۔ فیسوں کی طویل فہرست میں داخلہ فیس، سیکیورٹی فیس، ماہانہ ٹیوشن، لیبارٹری، امتحانی، مینٹیننس، صحت، شناختی کارڈ اور حتیٰ کہ جماعت کی تبدیلی کی فیس بھی شامل ہے۔
ایک والد کا کہنا تھا، “کچھ ادارے اگرچہ داخلہ فیس نہیں لیتے، لیکن ان کی ماہانہ فیسیں حد سے زیادہ ہیں۔” دوسری جانب، وفاقی سرکاری اسکولوں میں داخلہ مشکل ہے اور پنجاب کے سرکاری تعلیمی اداروں کا معیار بھی تشویشناک ہے۔
پرائیویٹ اسکول پیرنٹس ایسوسی ایشن اور سول سوسائٹی کے کارکنان نے اس صورتحال کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے ہیں۔ مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ فیسوں کے نظام کو شفاف اور قابلِ عمل بنایا جائے تاکہ والدین کے مالی استحصال کا خاتمہ کیا جا سکے۔
ایک والدہ تسلیم ستی نے نجی اسکولوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا، “والدین کو اے ٹی ایم مشینوں کی طرح سمجھا جاتا ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ مہنگے یونیفارمز اور کتابیں صرف اسکول کی منظور شدہ دکانوں سے خریدنے کی شرط ظلم ہے۔ ان کے مطابق پرائیویٹ ایجوکیشنل انسٹیٹیوشنز ریگولیٹری اتھارٹی (PEIRA) کوئی مؤثر اقدام کرنے میں ناکام رہی ہے، اور کیپیٹل ایڈمنسٹریشن اینڈ ڈیولپمنٹ ڈویژن (CADD) کو دی گئی شکایات بھی بے سود رہیں۔
ایک اور والدہ، اسماء سعید نے اسکول مالکان پر سالانہ فیسوں میں من مانے اضافے کا الزام لگایا اور کہا، “یہ ایک مافیا کی طرح کام کرتے ہیں۔” انہوں نے کتابوں اور دیگر سامان کے اضافی اور بلاجواز چارجز کو والدین پر غیر ضروری بوجھ قرار دیا۔






