پنجاب حکومت کی پالیسیوں پر کڑی تنقید، 11 ہزار سرکاری اسکول نجی شعبے کے حوالے، تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ بھی روک دیا گیا
لاہور(الیون نیوز): پنجاب حکومت کی جانب سے حالیہ فیصلوں نے عوامی اور سرکاری حلقوں میں شدید تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت نے 11 ہزار سرکاری اسکولوں کو پرائیویٹائز کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، جسے ماہرین تعلیم نے سرکاری تعلیمی نظام کی ناکامی کا اعتراف قرار دیا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ سرکاری ملازمین کے لیے ایک اور بری خبر سامنے آئی ہے کہ آئندہ بجٹ میں نہ تو تنخواہوں میں اضافہ کیا جائے گا اور نہ ہی پنشنز میں بہتری کی کوئی توقع ہے۔ اس فیصلے نے پہلے سے مہنگائی کی چکی میں پسے ہوئے ملازمین کو شدید مایوسی میں مبتلا کر دیا ہے۔
حکومت نے نئی بھرتیوں پر بھی پابندی عائد کر دی ہے، جس سے بے روزگاری میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ پہلے کسانوں کو گندم کی امدادی قیمت نہ دے کر نقصان پہنچایا گیا، پھر سرکاری اسپتالوں میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹرز کو دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کا سامنا کرنا پڑا، اور اب سرکاری ملازمین کو تنخواہوں و مراعات سے محروم کر کے ایک اور بڑا دھچکا دیا جا رہا ہے۔
ماہرین اور عوامی نمائندوں کا کہنا ہے کہ حکومت ہر محاذ پر ناکامی کا شکار نظر آ رہی ہے، اور اس کے اقدامات عوام دشمنی کے مترادف ہیں۔ اگر فوری طور پر فیصلوں پر نظرثانی نہ کی گئی تو اس کے سنگین سیاسی و سماجی نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔






