پاکستان کی داستانِ جدوجہد اور عمران خان کی قیادت واحد حل
تحریر ۔ ملک وسیم اختر

1947 میں لاکھوں قربانیوں کے بعد جب پاکستان دنیا کے نقشے پر ابھرا، تو ایک خواب تھا کہ یہ ملک ایک ایسا فلاحی ریاست بنے گا جہاں انصاف، مساوات اور ترقی ہوگی۔ مگر بدقسمتی سے آزادی کے بعد سے اب تک، ہمارا سفر مشکلات، بحرانوں اور بدانتظامیوں سے بھرا رہا۔ سیاستدانوں کی مفاد پرستی، آمروں کی مداخلت، عدلیہ کی کمزوریاں، کرپشن اور ادارہ جاتی بگاڑ نے قوم کو بار بار پیچھے دھکیلا۔
1965 اور 1971 کی جنگیں، مشرقی پاکستان کا المیہ، 1990 کی دہائی کی سیاسی افراتفری، دہشتگردی کا عروج، معاشی بدحالی، اور بدعنوان حکومتوں نے عوام کے خوابوں کو چکناچور کر دیا۔ 2000 کی دہائی میں دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں جانوں کا نقصان ہوا اور معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچی۔
اسی تاریک پس منظر میں، عمران خان ایک امید کی کرن بن کر ابھرے۔ 1996 میں پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کی بنیاد رکھتے وقت شاید ہی کسی کو اندازہ ہو کہ یہ شخص، جس نے کرکٹ کے میدان میں پاکستان کا پرچم سربلند کیا تھا، سیاست میں بھی ایسا ہی کارنامہ انجام دے گا۔
عمران خان کی سیاست کا بنیادی نکتہ: انصاف، خودداری اور کرپشن کے خلاف جہاد تھا۔ انہوں نے عوام میں شعور بیدار کیا، نوجوانوں کو سیاست میں متحرک کیا، اور روایتی سیاست کے خلاف ایک نئی سوچ دی۔ 2018 کے عام انتخابات میں عمران خان کو اقتدار ملا اور انہوں نے مشکل ترین حالات میں ریاستِ مدینہ کے اصولوں پر مبنی فلاحی ریاست بنانے کی کوششیں شروع کیں۔
لیکن طاقتور مافیاز، مفاد پرست سیاستدان، اور بیرونی دباؤ نے عمران خان کی حکومت کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کیں۔ بالآخر ایک منظم سازش کے تحت ان کی حکومت کا خاتمہ کیا گیا۔ مگر عوام کا شعور بیدار ہو چکا تھا۔ پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار عوام نے کھل کر ایک حکمران کے ساتھ وفاداری اور محبت کا مظاہرہ کیا، اور عمران خان کی مقبولیت پہلے سے کہیں بڑھ گئی۔
آج 2025 میں پاکستان بدترین سیاسی اور معاشی بحران کا شکار ہے۔ مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے، ادارے عوامی اعتماد کھو چکے ہیں، اور قوم شدید مایوسی میں مبتلا ہے۔ ایسے وقت میں پاکستان کو اگر کوئی متحد کر سکتا ہے، تو وہ صرف عمران خان ہے۔
کیونکہ:
وہ واحد لیڈر ہے جو ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر پاکستان کی خودمختاری کی بات کرتا ہے۔
وہ عوام میں مقبول ترین شخصیت ہے، چاہے وہ دیہات ہوں یا شہر، نوجوان ہوں یا بزرگ۔
وہ عالمی سطح پر پاکستان کا وقار بحال کر سکتا ہے، جیسا کہ ماضی میں دیکھا جا چکا ہے۔
اس کے پاس ایک واضح ویژن ہے کہ پاکستان کو کرپشن سے پاک اور ایک خوددار قوم کیسے بنایا جا سکتا ہے۔
لہٰذا آج پاکستان کے عوام، اداروں اور فیصلہ سازوں کو سوچنا ہوگا کہ اگر ملک کو بچانا ہے، معیشت کو سنبھالنا ہے، اور قوم کو ایک سمت دینی ہے تو عمران خان کو فوری طور پر رہا کرنا ہوگا۔ اس کو ایک آزاد اور غیر جانبدار ماحول میں کام کرنے دیا جائے تاکہ وہ اپنی قائدانہ صلاحیتوں سے پاکستان کو بحران سے نکال کر ترقی اور خودداری کی راہ پر ڈال سکے۔
پاکستان کی بقا اب عمران خان کی قیادت پر منحصر ہے۔
وقت کی صدا ہے: اب بھی وقت ہے — پاکستان کو بچا لو!






