جہلم: لیگی رہنماؤں اور سینئر صحافی پر جھوٹی ایف آئی آر غیر جانبدار انکوائری کا مطالبہ۔۔ ضلعی صدر پاکستان مسلم لیگ ن جہلم حافظ اعجاز جنجوعہ
جہلم ( مرزا عبدالجبار بیگ) مسلم لیگ (ن) جہلم کے ضلعی صدر حافظ اعجاز جنجوعہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی کے دیرینہ ورکر خان ذوالفقار اور سینئر صحافی، بیوروچیف دنیا نیوز جہلم ملک فدا کے خلاف جھوٹی اور من گھڑت ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ معاملہ دراصل لین دین کے تنازع سے شروع ہوا، جس میں دو فریق شامل تھے۔ ایک فریق، جس کا تعلق جہلم سے ہے، مسلم لیگ (ن) کے ضلعی دفتر آیا، جبکہ دوسرا فریق راولپنڈی سے مبینہ طور پر 30 سے 40 افراد کے ہمراہ پہنچا اور تشدد کا نشانہ بنایا۔
حافظ اعجاز جنجوعہ کے مطابق، واقعے کے بعد خان ذوالفقار مقدمہ درج کروانے تھانے گئے، جہاں پولیس نے دونوں فریقین کو طلب کیا۔ ایس پی انویسٹیگیشن نے فریقین کا مؤقف سننے کے بعد صلح کی تجویز دی، تاہم خان ذوالفقار نے مؤقف اختیار کیا کہ ان پر تشدد اور فائرنگ کی گئی، اس لیے صلح کے بجائے مقدمہ درج کیا جائے۔
انہوں نے مزید کہا ا کہ پولیس نے نہ صرف ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کیا بلکہ خان ذوالفقار کو تھانے سے باہر نکال دیا۔ بعد ازاں دونوں فریقین کے درمیان دوبارہ تصادم ہوا۔
ضلعی صدر ن لیگ کا کہنا تھا کہ پولیس بعد میں مسلم لیگ (ن) کے ضلعی دفتر پہنچی، جہاں دروازے پر لاتیں ماریں اور خان ذوالفقار کو گرفتار کرنے کی کوشش کی، حالانکہ وہ اس وقت وہاں موجود نہیں تھے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ پولیس نے کس بنیاد پر دباؤ ڈالا، ایف آئی آر درج نہ کی اور الٹا ان کے افراد کو گرفتار کرنے کی کوشش کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر پولیس ابتدا میں ہی انصاف فراہم کرتی تو دوسرا واقعہ پیش نہ آتا۔
حافظ اعجاز جنجوعہ نے ڈی پی او جہلم اور ڈپٹی کمشنر جہلم سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی سات روز کے اندر غیر جانبدارانہ انکوائری کروائی جائے اور مبینہ جھوٹی ایف آئی آر کو ختم کیا جائے، بصورت دیگر مسلم لیگ (ن) پولیس کے مبینہ جانبدارانہ رویے کے خلاف شدید احتجاج کرے گی۔






