سیلاب کے بعد مہنگائی کا طوفان، مہنگائ اسمانوں سے باتیں کرنے لگی
جہلم ( مرزا عبدالجبار بیگ) پاکستان میں حالیہ سیلاب جہاں لاکھوں ایکڑ زرعی زمین بہا لے گیا، وہیں اس کے اثرات روزمرہ زندگی پر بھی بجلی کی طرح گرے ہیں۔ اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں اور عوام کی پہنچ سے دور ہو گئیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سیلاب وقتی ہے مگر زرعی زمینوں کی بحالی میں برسوں لگ سکتے ہیں، جس کے باعث مہنگائی کا یہ طوفان سونامی کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
قیمتوں میں ہوشربا اضافہ
سیلاب کے بعد منڈیوں میں اشیاء کی قیمتیں کچھ یوں بڑھیں:
پیاز: سیلاب سے پہلے فی کلو 65 سے 70 روپے، اب 100 سے 120 روپے فی کلو۔
ٹماٹر: پہلے 110 سے 120 روپے فی کلو، اب 180 سے 200 روپے فی کلو۔
آلو (A گریڈ): پہلے 85 سے 90 روپے فی کلو، اب 150 روپے فی کلو۔
آلو (B/C گریڈ): پہلے 55 سے 75 روپے فی کلو، اب 125 سے 130 روپے فی کلو۔
لہسن (عام): پہلے 205 سے 215 روپے فی کلو، اب 300 روپے فی کلو۔
لہسن (ہرانی): پہلے 282 سے 295 روپے فی کلو، اب 400 روپے فی کلو۔
ادرک: پہلے 395 سے 465 روپے فی کلو، اب 600 سے 700 روپے فی کلو۔
عوامی مشکلات
عوام کا کہنا ہے کہ ایک طرف سیلاب نے گھروں کو تباہ کیا، دوسری طرف مہنگائی نے کچن کا بجٹ ڈھا دیا ہے۔ “اب کھانے کے لئے سبزی لینا بھی مشکل ہو گیا ہے” — شہریوں کی دہائی۔
ماہرین کی رائے
ماہرین کے مطابق سپلائی چین متاثر ہونے اور فصلوں کی تباہی کے باعث قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے۔ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو مہنگائی قابو سے باہر ہو جائے گی۔
حکومت سے مطالبہ
ماہرین اور عوامی حلقوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ:
فوری طور پر اشیائے ضروریہ پر سبسڈی دی جائے۔
متاثرہ کسانوں کے لیے خصوصی امدادی پیکج دیا جائے تاکہ وہ دوبارہ کھیتی باڑی شروع کر سکیں۔






