0

ہنڈی کا لین دین یا چوری؟ جہلم میں 2 کروڑ 75 لاکھ کے معاملے نے سنگین رخ اختیار کر لیا، سی سی ڈی اہلکار سمیت متعدد افراد زیرِ تفتیش۔ سی سی ڈی ملازم ظہیر گرفتار

ہنڈی کا لین دین یا چوری؟ جہلم میں 2 کروڑ 75 لاکھ کے معاملے نے سنگین رخ اختیار کر لیا، سی سی ڈی اہلکار سمیت متعدد افراد زیرِ تفتیش۔ سی سی ڈی ملازم ظہیر گرفتار

جہلم (رپورٹ: الیاس صادق وٹو) لندن میں مقیم پاکستانی شہری امیر خان کی جانب سے جہلم میں مبینہ ہنڈی کے ذریعے 2 کروڑ 75 لاکھ روپے کی ترسیل کا معاملہ اس وقت سنگین رخ اختیار کر گیا جب رقم کی لین دین کے دوران سی سی ڈی اہلکار کی غیر متوقع موجودگی نے ہنگامہ برپا کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق، امیر خان نے سٹی ہاؤسنگ سوسائٹی جہلم میں کام کرنے والے ایک شخص علی شہزاد سے رابطہ کیا۔ علی شہزاد نے امیر خان کو یقین دہانی کروائی کہ 75,000 پاؤنڈ کے مساوی رقم یعنی 2 کروڑ 75 لاکھ روپے مقامی طور پر ادا کیے جائیں گے۔ اس رقم کی وصولی کے لیے امیر خان نے اپنے نمائندہ توصیف کو مقرر کیا، جو دو ساتھیوں کے ہمراہ سٹی ہاؤسنگ پہنچا۔

وہاں موجود توقیر نامی شخص، جو کہ مبینہ طور پر ہنڈی کے کاروبار سے وابستہ ہے، رقم کی ترسیل میں شامل تھا۔ توصیف کا مسلسل رابطہ ایک ظہیر نامی شخص سے رہا جو کہ سی سی ڈی جہلم کا ملازم ہے۔ شک و شبہ کے پیش نظر ظہیر خود ایک ساتھی سمیت موقع پر پہنچ گیا۔ جب ان کی شناخت ظاہر ہوئی کہ وہ سی سی ڈی سے وابستہ ہیں تو موقع پر کھلبلی مچ گئی اور توصیف موقع سے رقم سمیت فرار ہو گیا۔ اس دوران توقیر بھی پیچھے سے رقم لے کر غائب ہو گیا۔

چند دنوں کی خاموشی کے بعد توقیر نے 17 جولائی کو تھانہ کالا گجراں میں درخواست دی کہ چند افراد اس کے گھر آ کر 2 کروڑ 75 لاکھ کی رقم چوری کر کے لے گئے، جو اس نے مبینہ طور پر اپنی بہن کے پلاٹ کی فروخت سے حاصل کی تھی۔ ساتھ ہی ملزمان نے سی سی ڈی ملازمین ہونے کا دعویٰ بھی کیا۔

پولیس نے تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے ظہیر سمیت دیگر افراد کو شامل تفتیش کیا۔ معاملہ مزید پیچیدہ اس وقت ہوا جب پریا جادہ کے رہائشی ساجد آمین کے پاس ایک میٹنگ رکھی گئی جہاں 2 کروڑ 19 لاکھ روپے کی رقم واپس کرنے کی کوشش کی گئی۔ تاہم، توصیف نے مکمل رقم 2 کروڑ 75 لاکھ کا مطالبہ کیا۔ اس دوران ایک بار پھر ہنگامہ آرائی ہوئی اور سی سی ڈی کو اطلاع دی گئی، جس پر یاسر ربانی اپنی ٹیم کے ہمراہ موقع پر پہنچے اور توصیف سمیت دیگر افراد کو حراست میں لے کر رقم تھانے میں جمع کروا دی۔

تحقیقات کے دوران یہ انکشاف بھی ہوا کہ سی سی ڈی اہلکار ظہیر خود بھی اس معاملے میں ملوث پایا گیا، جسے بعد ازاں گرفتار کر لیا گیا۔ صحافیوں اور شہری حلقوں نے اس واقعے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مقدمہ توقیر کے خلاف درج ہونا چاہیے تھا، کیونکہ وہ ہنڈی کا کاروبار کرتا ہے، اور مقدمہ بے بنیاد طور پر چوری کا بنایا گیا۔

پولیس کی تحقیقات جاری ہیں جبکہ یہ سوال بدستور موجود ہے کہ ہنڈی جیسے غیر قانونی مالی نظام کے تحت ہونے والے اس بڑے لین دین میں ریاستی ادارے کس حد تک ملوث یا لاعلم رہے؟

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں