0

جہلم پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان: رشوت کا بازار گرم، مجرموں کو پشت پناہی، عوام بے بس

جہلم پولیس کی کارکردگی پر سوالیہ نشان: رشوت کا بازار گرم، مجرموں کو پشت پناہی، عوام بے بس

جہلم (کرائم رپورٹر) ضلع جہلم میں پولیس کی کارکردگی روز بروز تنقید کی زد میں آتی جا رہی ہے۔ عوامی حلقوں میں شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ پولیس اہلکاروں کی نااہلی، کرپشن اور جرائم پیشہ عناصر سے ملی بھگت نے پورے ضلع کو عدم تحفظ کا گہوارہ بنا دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق سپاہی سے لے کر اعلیٰ افسران تک، بیشتر پولیس اہلکار اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں سے پہلوتہی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ سائلین کا کہنا ہے کہ اگر کوئی مظلوم شہری اپنے مسئلے کے حل کے لیے “کھلی کچہری” کا رخ کرتا ہے، اور اس کی فریاد محکمہ پولیس کے کسی ملازم کے خلاف ہو تو تو ڈی پی او جہلم نہ صرف اس کی فریاد سننے میں سختی برتتے ہیں بلکہ فریادی ہی کے ساتھ بدتمیزی پر اتر آتے ہیں۔ اس باعث عوام نے کھلی کچہریوں میں جانا ترک کر دیا ہے۔ محکمہ پولیس جہلم اپنے مخصوص لوگوں کو کھلی کچہری میں بلاتے ہیں تاکہ سب اچھا کی رپورٹ دی جا سکے

دوسری جانب جہلم پولیس کی جانب سے آئی جی پنجاب کو “سب اچھا” کی رپورٹیں بھجوائی جا رہی ہیں، جو زمینی حقائق سے یکسر مختلف ہیں۔ ان رپورٹوں میں پولیس کی کارکردگی کو مثالی قرار دیا جاتا ہے، حالانکہ صورتحال اس کے برعکس ہے۔

ضلع بھر میں چوری، ڈکیتی، راہزنی اور قتل کی وارداتوں میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ شہری اپنے گھروں، کاروباروں اور حتیٰ کہ راستوں میں بھی خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق متعدد جرائم پیشہ افراد کو پولیس کی مبینہ پشت پناہی حاصل ہے، اور انہیں “جسہ بمطابق حصہ” کے تحت تحفظ فراہم کیا جاتا ہے۔

عوامی و سماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب، آئی جی پنجاب اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ضلع جہلم میں پولیس کے نظام میں فوری اصلاحات کی جائیں، کرپٹ اہلکاروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے، اور مظلوم شہریوں کی داد رسی کو یقینی بنایا جائے۔ اور ایماندار اور فرض شناس افسران کو تعینات کیا جائے تاکہ کے شہریوں کی دادرسی ممکن ہو

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں