جعفر ایکسپریس حملے میں بھارتی فوجی اہلکار ملوث، ایل او سی پر بھارتی ڈرون مار گرایا گیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر
اسلام آباد (الیون نیوز ) جہلم لاری اڈہ سے ہم نے (مجید) نامی دہشتگرد پکڑا جو بھارتی سرونگ آفیسر سخوندر کے رابطہ میں تھا ۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے انڈین آرمی کے سرونگ آفیسر سخوندر اور جہلم میں دھماکے کا ارادہ رکھنے والے دہشتگرد (مجید) کے درمیان واٹس ایپ میسیجیز کا ثبوت پڑھ کر سنا دیا.
پاک فوج نے اللہ کی مدد سے جہلم کو بڑے سانحہ سے بچا لیا ۔ ڈی جی آئی ایس پی آر
ڈی جی آئی ایس پی آر نے جعفر ایکسپریس حملے کے حوالے سے سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ اس دہشتگرد کارروائی میں بھارت کے حاضر سروس فوجی افسران براہ راست ملوث تھے۔ اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مشن نے ایک پریس ریلیز جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کے پاس “قابلِ اعتماد شواہد” موجود ہیں جو اس حملے کو بھارت کی ریاستی سرپرستی میں ہونے والی کارروائی قرار دیتے ہیں۔
پاکستانی حکام کے مطابق تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ اس کارروائی میں بھارتی فوج کے چار اہلکار شامل تھے، جن میں:
میجر سندیپ ورما عرف سمیر — مقبوضہ کشمیر میں تعینات کمانڈنگ افسر اور کارروائی کا مرکزی ہینڈلر،
صوبیدار سکھویندر عرف سکندر،
حوالدار امِت عرف عدیل امان،
اور ایک مزید بھارتی فوجی شامل ہے جس کی شناخت تحقیقات کے تحت رکھی گئی ہے۔
یاد رہے کہ 11 مارچ کو بلوچستان میں پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس پر بی ایل اے دہشتگردوں نے حملہ کیا تھا۔ 440 مسافروں کو یرغمال بنانے کے بعد دو روزہ سیکیورٹی آپریشن میں تمام 33 دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا گیا تھا اور تمام مسافروں کو بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا۔
ادھر آج پاکستانی فوج نے ایک بھارتی جاسوس ڈرون کو لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر آزاد جموں و کشمیر کی حدود میں مار گرایا۔ سرکاری ذرائع کے مطابق یہ ڈرون پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کر رہا تھا۔ اس واقعے سے قبل دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان مسلسل پانچویں رات فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا، جو کہ 4 سالہ جنگ بندی کے بعد ایک نیا تناؤ ظاہر کرتا ہے۔






