انڈیا کی مبینہ ‘پش بیک’ پالیسی: بنگلہ دیشی شہریوں کی جبری واپسی پر انڈیا اور بنگلہ دیش کے درمیان سرحدی کشیدگی میں اضافہ
بنگلہ دیش (الیون نیوز) — حالیہ دنوں میں انڈیا اور بنگلہ دیش کے درمیان سرحدی کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جب بنگلہ دیشی حکام نے الزام عائد کیا کہ انڈین بارڈر سیکورٹی فورس (BSF) غیر قانونی طور پر ان کے شہریوں کو زبردستی واپس بھیج رہی ہے۔
بدھ کی صبح بنگلہ دیش کے سرحدی علاقوں مٹیرنگا، شانتی پور اور پنچھاری سے 72 افراد کو بنگلہ دیش میں واپس دھکیل دیا گیا۔ بارڈر گارڈ بنگلہ دیش (BGB) کے مطابق یہ افراد بغیر کسی قانونی کارروائی کے انڈیا سے نکالے گئے۔ بی جی بی نے یہ بھی الزام لگایا کہ ایسی ہی ایک کوشش کو دو روز قبل مقامی افراد کی مدد سے ناکام بنایا گیا تھا۔
انڈیا کی ’پش بیک‘ پالیسی پر سوالات
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب انڈیا کے متعدد ریاستی رہنماؤں کی جانب سے ’دراندازی‘ کے خلاف سخت بیانات سامنے آ رہے ہیں۔ آسام کے وزیر اعلیٰ ہمانتا بسوا سرما نے 11 مئی کو ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ انڈین حکومت اب غیر قانونی بنگلہ دیشی شہریوں کو قانونی کارروائی کے بغیر براہ راست واپس بھیجے گی۔ انہوں نے کہا:
> “پہلے ان افراد کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا جاتا تھا، مگر اب ہم انہیں واپس دھکیل رہے ہیں تاکہ تعداد میں کمی لائی جا سکے۔”
تری پورہ کے وزیر اعلیٰ مانک ساہا نے بھی دعویٰ کیا کہ سرحدی دراندازی میں پچھلے سال کے مقابلے میں 36 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاستی پولیس کو آزادی دی گئی ہے تاکہ وہ بی ایس ایف اور دیگر فورسز کے ساتھ مل کر کارروائی کر سکیں۔
گرفتاریاں اور جبری واپسی
پہلگام حملے کے بعد انڈیا کی مختلف ریاستوں میں بنگلہ دیشی شہریوں کے خلاف کریک ڈاؤن میں تیزی آئی ہے۔ گجرات، راجستھان، اترپردیش، دہلی اور اڑیسہ میں درجنوں افراد کو ’غیر قانونی تارکین وطن‘ قرار دے کر حراست میں لیا گیا۔ بی بی سی کے مطابق صرف گجرات اور راجستھان سے حالیہ ہفتوں میں ایک ہزار سے زائد افراد گرفتار ہوئے۔
ان افراد میں سے کچھ کو خصوصی طیاروں کے ذریعے تری پورہ منتقل کیا گیا، جہاں سے بعد ازاں انہیں زمینی راستے سے سرحد پار کر کے بنگلہ دیش بھیجا گیا۔ بی بی سی بنگلہ نے تصدیق کی ہے کہ یہ افراد سرحد سے واپس دھکیلے گئے۔
کھگرا چاری کی ایڈیشنل کمشنر نظم الآرا سلطانہ نے بتایا کہ فی الحال ان افراد کو سرحدی علاقوں میں BGB کی نگرانی میں رکھا گیا ہے، جبکہ ان کی شہریت کی تصدیق کا عمل جاری ہے۔
انسانی حقوق پر سوالات
سرحدی بے دخلی کے اس نئے رجحان پر انسانی حقوق کے ادارے تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بغیر قانونی کارروائی کے جبری واپسی نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ انسانی وقار کے بھی منافی ہے۔
اگرچہ انڈین حکومت نے تاحال کسی باضابطہ ‘پش بیک’ پالیسی کا اعلان نہیں کیا، مگر زمینی حقائق اور حکومتی بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ ایک منظم مہم جاری ہے، جس کا مقصد مبینہ بنگلہ دیشی دراندازوں کی فوری واپسی ہے۔






