پاکستانی سیاسی رہنماؤں کے اندازِ سیاست اور حکمت عملی کا تقابلی جائزہ
پاکستان کی سیاست ایک پیچیدہ اور متحرک نظام ہے جہاں ہر بڑا سیاسی رہنما نہ صرف اپنے نظریات بلکہ اپنے اندازِ سیاست اور حکمت عملی کے ذریعے نمایاں ہوتا ہے۔ ذیل میں کچھ اہم رہنماؤں کا جائزہ پیش کیا گیا ہے
1. عمران خان
اندازِ سیاست: انقلابی، عوامی مقبولیت پر انحصار۔
حکمت عملی: جلسے، جلوس، سوشل میڈیا، اداروں کو آئین و قانون کی حد میں رہنے کی تلقین
مقصد: روایتی واراثتی سیاست کا خاتمہ ۔ انصاف و قانون کی بالادستی ۔ تمام اداروں کا اپنی حدود میں رہ کر کام کرنا
مثال: “امپورٹڈ حکومت نامنظور”، “نیوٹرلز” بیانیہ۔ طاقتور اور کمزور کے لیئے ایک قانون۔ وغیرہ
2. نواز شریف
اندازِ سیاست: چالاک خاموشی ، وقتی حالات کے مطابق اپنے ۔فادات کے تناظر میں اداروں پر تنقید یا مفاہمت۔
حکمت عملی: جھوٹی عوامی ہمدردی حاصل کرنا، نظام کو براہ راست چیلنج کرنے کا ڈھونگ کرنا۔ بات ترقی کی کرنا اور مقصد کرپشن
مقصد: اقتدار کی واپسی اور عدلیہ و فوج پر اثر و رسوخ قائم رکھنا۔
مثال: “مجھے کیوں نکالا” مہم، لندن سے بیانیہ دینا۔ بھارتی اور دیگر ممالک کے نمائندوں سے خفیہ ملا قاتیں
3. شہباز شریف
اندازِ سیاست: مصالحانہ۔تاکہ چپ کر کے کرپشن کا بازار قائم رہے ، اداروں سے تعلقات بہتر رکھنا تاکہ اقتدار چلتا رہے
حکمت عملی: بیوروکریسی اور فوج سے ہم آہنگی، خاموش سفارت کاری۔
مقصد: اقتدار میں رہنا اور مسلم لیگ ن کے اندر اپنا ذاتی اثر رسوخ بڑھانا
مثال: “مجھے کام کرنے دیں” کا بیانیہ
4. مولانا فضل الرحمن
اندازِ سیاست: موقع پرست، مذہبی جذبات کا استعمال۔
حکمت عملی: مذہبی جماعتوں کی طاقت، اداروں سے روابط، احتجاجی سیاست۔
مقصد: دینی سیاسی قوت کا اثر برقرار رکھتے ہوئے اقتدار لینا
مثال: PDM کی سربراہی، آزادی مارچ۔
5. مریم نواز
اندازِ سیاست: جاہلانہ ، جذباتی اور بدنام بیانیہ پر مبنی کمپین کرنا
حکمت عملی: میڈیا کے ذریعے مخالفین کے خلاف پروپیگنڈا ۔عدالتی اور بیوروکریسی معاملات میں دخل اندازی، اپنے مفادات کی خاطر اداروں کے خلاف سخت ترین اور بے ہودہ بیانیہ اور مفاہمت کی کوشش۔
مقصد: اپنے والد کے نقشے قدم پر چلتے ہوئے اسی طرز کی سیاست کرنا ۔ ن لیگ کی قیادت کو مکمل طور پر سنبھالنے کی کوشش کرنا۔ وزیرِاعظم کی کرسی تک پہنچنے کے لیئے صحیح اور غلط کی تمیز ختم کرنا
مثال: یہ جو دہشتگردی ہے اس کے پیچھے وردی ہے۔عمران خان کو “فتنہ” کہنا، سوشل میڈیا پر مخالفین کے خلاف سیاسی نہی بلکہ غیر سیاسی جھوٹ پر مبنی مہم چلانا
6. آصف زرداری / بلاول بھٹو
اندازِ سیاست: چالاک، پس پردہ سیاست، مفاہمانہ رویہ۔
حکمت عملی: سیاسی سودے بازی، قانونی راستوں کا استعمال، قومی اسمبلی میں اہم کردار۔
مقصد: اقتدار میں شراکت اور سندھ میں گرفت مضبوط رکھنا۔
مثال: سینیٹ الیکشن میں حکمت عملی، زرداری کی مفاہمت کی سیاست۔
7. اسٹیبلشمنٹ (فوج/خفیہ ادارے)
اندازِ سیاست: غیر اعلانیہ، کنٹرولنگ، پالیسی بنانے والی طاقت۔
حکمت عملی: سیاسی جماعتوں کی تشکیل، رہنماؤں کو بنانا یا ہٹانا، پردے کے پیچھے فیصلے۔
مقصد: قومی مفاد کے نام پر سویلین حکومتوں پر اثر قائم رکھنا۔ تاکہ دشمن سے مقابلہ کرنے کے لیئے مکمل گرفت اوربہتر فیصلے کا اختیار اپنے پاس رکھنا
مثال: نواز شریف ۔آصف زرداری ۔عمران خان کو لانا، پھر ہٹانا،
عوامی رد عمل۔ ان تمام سیاسی راہنمائوں کے حوالے سے جو آزاد سروے سامنے آئے ان مئں صرف عمران خان وہ واحد لیڈر ہے جسے پاکستانی عوام نے مقبولیت کی بلندیوں پر بٹھا دیا اور عمران خان کا بیانیہ زبان زد عام ہے اس کے علاوہ اسٹیبلشمنٹ کے حوالے سے عوامی سروے بہت دلچسپ ہے آزاد سروے میں لوگوں کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ ہمارے ملک کی بقا کے لیئے بہت اہم ہے ہمیں اپنی فوج پر فخر ہے ہم اپنی فوج کے شانہ بشانہ ہیں لیکن فوج کا کام ملک کی سر حدوں کی حفاظت ہے نہ کہ سیاسی معملات میں دخل اندازی سیاست سیاستدانوں کو کرنے دیں اور جسے ہم ووٹ دیں اقتدار بھی اسی کا حق ہے ۔ عمران خان کے علاوہ۔۔ نواز شریف ۔ آصف زرداری۔ شہباز شریف۔ ۔مولانہ فضل الرحمن۔ بلاول بھٹو زرداری۔اور مریم نواز کے حوالے سے لوگوں کی رائے ایک جیسی ہے اگر 100 لوگوں سے بات کریں تو 80 بندے ان کے خلاف بات کرتے ہیں ۔






