بلوچستان ہائیکورٹ نے کوئٹہ اور اس کے گردونواح میں سبزیوں اور چارے کی فصلوں کی آبیاری کے لیے غیر مصفیٰ سیوریج کے پانی کے مسلسل استعمال پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ جسٹس اقبال احمد کاسی اور جسٹس میاں محمد روف عطا پر مشتمل دو رکنی بینچ نے بلوچستان ماحولیاتی تحفظ ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل، واٹر اینڈ سینی ٹیشن اتھارٹی کے منیجنگ ڈائریکٹر اور کوئٹہ کے ایڈمنسٹریٹر کو اگلی سماعت سے قبل تفصیلی رپورٹیں پیش کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے کہا کہ غیر مصفیٰ گندے پانی میں آرسینک، بھاری دھاتیں اور دیگر زہریلے مادے شامل ہو سکتے ہیں جو زرعی پیداوار میں داخل ہو کر صحت کے سنگین مسائل پیدا کر سکتے ہیں۔ عدالت نے خبردار کیا کہ یہ عمل عوامی صحت اور خوراک کی حفاظت کے لیے خطرہ ہے۔ فریقوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس مسئلے کے حل کے لیے ٹھوس اقدامات سے عدالت کو آگاہ کریں۔
ماخذ: ڈان، 6 نومبر 2026۔









