0

فرانس میں فیمنائیڈ کے واقعات میں اضافہ، 2025 میں 55 خواتین قتل

فرانس میں فیمنائیڈ کے واقعات میں اضافہ، 2025 میں 55 خواتین قتل

پیرس (رپورٹ ملک وسیم اختر) فرانس میں رواں سال اب تک 55 خواتین اپنے شریکِ حیات یا سابق ساتھی کے ہاتھوں قتل ہو چکی ہیں۔ یہ واقعات ملک میں بڑھتے ہوئے فیمنائیڈ (Femicide) کے بحران کو اجاگر کرتے ہیں فیمنائیڈ ایسا قتل جو کسی عورت کو صرف اس کی صنفی حیثیت یا عورت ہونے کی بنیاد پر کیا جائے۔

اگست میں سینٹ ژوآن دے گوریٹس میں 36 سالہ تاتیانا میویل کو اس کے سابق شوہر نے چاقو کے وار سے قتل کر دیا۔ مقتولہ نے واقعے سے چند ہفتے قبل ہراسگی اور تشدد کی شکایات درج کروائی تھیں، مگر پولیس کی جانب سے بروقت اقدام نہ ہونے پر اسے تحفظ نہیں مل سکا۔ ملزم کو بعد ازاں گرفتار کر لیا گیا۔

ستمبر میں پواٹیئر میں 25 سالہ اینیس میسیلم کو اس کے سابق ساتھی نے گھر میں گھس کر قتل کر دیا۔ مقتولہ نے صرف چھ ہفتوں میں پانچ شکایات درج کرائی تھیں، لیکن حفاظتی اقدامات نہ ہونے کے باعث وہ جان سے گئی۔ ملزم تاحال مفرور ہے۔

لیون کے قریب سینٹ پریئست میں 38 سالہ خاتون کو شوہر نے چاقو سے قتل کیا۔ پولیس نے ملزم کو چند گھنٹوں بعد گرفتار کر لیا۔

اسی دوران ڈلفین جو بیار کے مشہور مقدمے میں عدالت نے شوہر سیدرک جو بیار کے خلاف قتل کا مقدمہ جاری رکھا ہے۔ مقتولہ 2020 میں لاپتا ہوئی تھی، اور 2025 میں استغاثہ نے 30 سال قید کی سزا کا مطالبہ کیا ہے۔

ماہرین کے مطابق فرانس میں فیمنائیڈ کے اکثر کیسز میں متاثرہ خواتین پہلے ہی خطرے کی نشاندہی کر چکی ہوتی ہیں، مگر پولیس اور عدالتی نظام کا ردعمل سست ہونے کی وجہ سے واقعات پیش آتے ہیں۔ خواتین کے حقوق کی تنظیموں نے حکومت سے فوری حفاظتی اقدامات اور شکایات کے بعد فوری تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

پس منظر

2023: فرانس میں 118 خواتین اپنے شریکِ حیات یا سابق ساتھی کے ہاتھوں قتل ہوئیں۔

2024: وزارتِ داخلہ کے مطابق یہ تعداد 107 تک کم ہوئی، لیکن ماہرین کے مطابق رپورٹ نہ ہونے والے کیسز اصل تعداد کو کہیں زیادہ بناتے ہیں۔

2025: تازہ رپورٹس کے مطابق اب تک 55 فیمنائیڈ کیسز سامنے آ چکے ہیں، اور سال ختم ہونے سے پہلے یہ تعداد 100 کے قریب پہنچنے کا خدشہ ہے۔

حقوقِ نسواں کی تنظیمیں کہتی ہیں کہ ہر سال اوسطاً دو خواتین ہر ہفتے اپنے شریکِ حیات کے ہاتھوں قتل ہوتی ہیں۔ حکومت نے حالیہ برسوں میں “عورتوں کے تحفظ” کے متعدد منصوبے شروع کیے ہیں، مگر تنظیموں کے مطابق ان اقدامات پر مؤثر عمل درآمد ابھی تک یقینی نہیں بنایا جا سکا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں