آڈٹ رپورٹ 2024–25: پنجاب میں 10 کھرب روپے سے زائد بے ضابطگیوں کا انکشاف
اسلام آباد: (الیون نیوز)آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی حال ہی میں شائع ہونے والی رپورٹ نے پنجاب حکومت کے مالیاتی سال 2023–24 میں ہونے والے بڑے مالی بے ضابطگیوں کا پردہ فاش کیا۔ رپورٹ کے اہم نکات درج ذیل ہیں:
—
بڑے اعداد و شمار
مجموعی بے ضابطگیوں کا تخمینہ: 1 ٹریلین+ روپے
14 کیسز میں فراڈ اور خرد برد: 3.1 ارب روپے
50 معاملات میں زائد ادائیگیاں/غير مجاز ادائیگیاں: 25.4 ارب روپے
21 مالی انتظام میں کمزوریاں: 10.6 ارب روپے
45 معاملات میں مخدوش پروکیورمنٹ: 43 ارب روپے
12 معاملات میں محفوظ فنڈز کا غیر مجاز استعمال: 988 ارب روپے
HR کے ضمن میں بے ضابطگی: 8.2 ارب روپے
کارکردگی سے متعلق خامیاں: 3.6 ارب روپے
—
رپورٹ میں سامنے آنے والی دیگر خامیاں
e‑Pay آن لائن وصولیوں کا ریکنسیلیشن نہ ہونا: 282 ارب روپے
قرض و پیشگی ادائیگی میں تاخیر/عدم وصولی: 352 ارب روپے
پنچابی فنڈز کا تجارتی بینک اکاؤنٹس میں غیر قانونی جمع: 44 ارب روپے
غیر قانونی زمینداری قبضہ: 541.56 ایکڑ
غیر مستحق زرعی افراد کو سبسڈی: 480 ملین روپے
—
️ خرچ کے شعبے اور شیئر
زمرہ جات : 73% خرچ چار شعبوں پر، جس میں Communication & Works کا حصہ سب سے نمایاں (41%)
دیگر شعبوں میں صحت (15%)، تعلیم (6%)، اور Housing & Urban Development (11%) شامل ہیں۔ زرعی شعبے کی حصہ داری صرف 4–5% رہی۔
تنخواہوں اور دیگر فوائد کا حصہ کل خرچ کا 25%، قرضوں کی ادائیگی 20%، اور maintenance صرف 2% رہا
—
️ سفارشات اور حکومتی ردعمل
رپورٹ نے درج ذیل اقدامات تجویز کیے ہیں:
1. غلط ادائیگیوں اور زائد اخراجات کی واپسی اور قانونی کارروائی
2. پروکیورمنٹ رولز (2014) پر مکمل عملدرآمد
3. تجارتی بینکوں سے فنڈز نکال کر خزانے میں جمع کروانا
4. ملازمتوں میں میرٹ کی شفاف بھرتی
5. KPI کی بنیاد پر پراجیکٹ مانیٹرنگ اور کارکردگی میں بہتری
اس کے جواب میں پنجاب کے وزیر اطلاعات آزما بخاری نے اعلان کیا کہ رپورٹ کے تمام “paras” پہلی SDAC، اور پھر PAC کو بھیجے جائیں گے؛ اس کے بعد چاہے جو بھی قانونی کارروائی درکار ہو کی جائے گی






