“نیا دور نئی تحقیق
بایومیٹرک شناخت کا نیا باب: کیا زبان کے پرنٹس فنگر پرنٹس کی جگہ لیں گے؟”
تحقیقاتی رپورٹ ۔۔۔۔۔ الیون نیوز
فنگر پرنٹ کی ابتدا اور فنگر پرنٹ کے ا ستعمال کے بعد زبان کے پرنٹ پر مکمل تحقیقاتی رپورٹ
1. فنگر پرنٹ کی ابتدا اور تاریخ
فنگر پرنٹ کا مطلب
فنگر پرنٹ (Fingerprints) انسانی انگلیوں کی نوک پر موجود خاص قسم کی لکیریں (ridges) اور وادیاں (valleys) ہوتی ہیں جو ہر فرد کے لیے منفرد ہوتی ہیں۔
فنگر پرنٹ کی تاریخ
قدیم دور: فنگر پرنٹس کا استعمال 2000 قبل مسیح میں بابل میں کیا جاتا تھا جہاں مٹی کی مہروں پر انگلیوں کے نشان چھوڑے جاتے تھے تاکہ شناخت ہو سکے۔
قرون وسطیٰ میں چین: چین میں تانگ اور چنگ خاندان کے دور میں فنگر پرنٹس کو دستاویزات کی تصدیق کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔
جدید سائنس کی بنیاد:
1823: ایک یورپی سائنسدان جان ایوان پرکنجے (Jan Evangelista Purkyně) نے انگلیوں کی جلد پر مختلف نمونوں (loops, whorls, arches) کا مطالعہ کیا۔
1858: برطانوی سول سرونٹ سر ولیم ہرشل (Sir William Herschel) نے ہندوستان میں ملازمین کی شناخت کے لیے فنگر پرنٹس کا باقاعدہ استعمال شروع کیا۔
1892: سر فرانسس گالٹن (Sir Francis Galton) نے پہلی بار سائنسی بنیاد پر فنگر پرنٹ کا تجزیہ کیا اور ثابت کیا کہ ہر انسان کے فنگر پرنٹس منفرد ہوتے ہیں۔
1897: ایڈورڈ ہنری (Edward Henry) نے ایک نظام بنایا جو پولیس اور دیگر اداروں کے لیے فنگر پرنٹس کو درجہ بندی کے ساتھ محفوظ کرنے میں مددگار تھا۔ یہ نظام “ہنری کلاسفیکیشن سسٹم” کہلاتا ہے۔
پہلا فنگر پرنٹ کیس
1901: برطانیہ میں فنگر پرنٹ کا پہلا باقاعدہ کرمنل کیس رجسٹر ہوا۔
1902: فرانس اور دیگر یورپی ممالک نے فنگر پرنٹ کو قانونی شہادت کے طور پر تسلیم کیا۔
—
2. زبان کے پرنٹ (Tongue Prints): نیا رجحان
زبان کے پرنٹ کیا ہوتے ہیں؟
زبان کی ساخت — اس کی شکل، سطح، خدوخال (texture), وریدی نقشے (vein patterns) اور حرکت — ہر انسان کے لیے منفرد ہوتی ہے۔ جدید تحقیق میں زبان کو ایک Biometric Identifier کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جیسے فنگر پرنٹ، آنکھ کی پتلی (iris) یا چہرے کی شناخت۔
کیوں زبان؟
ہر انسان کی زبان کی ساخت مختلف ہوتی ہے۔
زبان کو جعلسازی سے نقل کرنا تقریباً ناممکن ہے۔
یہ جسم کے اندر ہوتی ہے، اس لیے زیادہ محفوظ ہوتی ہے۔
DNA سے قریبی تعلق بھی ہوتا ہے۔
—
3. زبان کے پرنٹ پر تحقیق
ابتدائی تحقیق
2007: ہانگ کانگ کے محققین نے “Tongue Print Recognition” پر ابتدائی تحقیق کی۔ انہوں نے بتایا کہ زبان کی شکل، رنگ، اور texture کے ذریعے کسی فرد کی شناخت ممکن ہے۔
Tongue Image Database بھی تیار کی گئی تاکہ مختلف زاویوں سے زبان کے تصویری پرنٹس کو جمع کیا جا سکے۔
اہم ادارے اور شخصیات
Chinese University of Hong Kong: زبان کی شناخت پر بایومیٹرک تحقیق کی قیادت کی۔
IEEE Conferences: 2010 کے بعد زبان کے بایومیٹرکس پر کئی ریسرچ پیپرز شائع ہوئے۔
MIT اور Stanford: جدید اسکیننگ ٹیکنالوجیز کی مدد سے زبان کی ساخت کی گہرائی سے شناخت پر کام ہو رہا ہے۔
—
4. ممکنہ استعمالات
استعمال کی جگہ تفصیل
سیکیورٹی بینک، موبائل فون، ایئرپورٹس پر شناخت کے لیے زبان کی اسکیننگ
میڈیکل زبان کی ساخت میں تبدیلی بیماریوں کا پتہ دے سکتی ہے
پاسورڈ کا متبادل زبان کی ساخت پاسورڈ یا OTP کے متبادل کے طور پر استعمال ہو سکتی ہے
—
5. چیلنجز اور مسائل
زبان کا روزمرہ حالات میں بدلاؤ (مثلاً زخم، سوجن، یا خشکی) شناخت میں رکاوٹ ڈال سکتا ہے۔
اسکیننگ کے لیے خاص آلات کی ضرورت ہے۔
رازداری اور اخلاقی پہلو: جسم کے اندرونی حصے کی شناخت کے استعمال پر اعتراضات ہو سکتے ہیں۔
—
6. مستقبل میں کیا ممکن ہے؟
2030 تک: مکمل طور پر ترقی یافتہ زبان بایومیٹرکس کا امکان ہے، جہاں زبان کی اسکیننگ فنگر پرنٹس کی جگہ لے سکتی ہے یا اس کے ساتھ استعمال ہو سکتی ہے۔
AI اور Machine Learning کی مدد سے شناخت کی درستگی اور رفتار میں اضافہ ہوگا۔






