جہلم: 14 سالہ گھریلو ملازمہ صفیہ بی بی مبینہ طور پر تشدد سے جاں بحق — والد کا انصاف کے لیے دہائی
جہلم (سید اکرم شاہ بخاری) جہلم سٹی ہاؤسنگ اسکیم میں کام کرنے والی 14 سالہ گھریلو ملازمہ صفیہ بی بی مبینہ طور پر اپنے مالکان کے تشدد کا نشانہ بن کر جاں بحق ہو گئی۔ مقتولہ کے والد محمد اعظم ولد احمد علی، ساکن داخلی مردہانی، تحصیل و ضلع اوکاڑہ نے شدید غم و غصے کے عالم میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اُن کی بیٹی ڈیڑھ سال سے آصف نامی شخص کے گھر بطور گھریلو ملازمہ خدمات سرانجام دے رہی تھی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ آصف اور اس کی بیوی عائشہ نے ان کی بیٹی کی ایک سال کی تنخواہ روک رکھی تھی، اور جب وہ بارہا تنخواہ کا تقاضا کرتے رہے تو بہانے بازی اور ٹال مٹول سے کام لیا گیا۔ محمد اعظم کا کہنا تھا کہ آصف اور اس کی بیوی نے ان کی بیٹی پر سونے کی چوڑیاں چوری کرنے کا جھوٹا الزام لگا کر وحشیانہ تشدد کیا، جس کی چیخ و پکار اہلِ محلہ نے بھی سنی۔
محمد اعظم کے مطابق ان کی بیٹی صفیہ تشدد کی تاب نہ لاتے ہوئے جان کی بازی ہار گئی۔ مقتولہ کی لاش تھانہ کالا گجراں پولیس نے آصف کے گھر سے برآمد کی، جس پر ان کی مدعیت میں ایف آئی آر نمبر 249/25 مورخہ 25 مئی 2025 درج کی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ اس افسوسناک واقعے میں آصف، اس کی بیوی عائشہ، اور ان کا بھانجا سمیع رانا ملوث ہیں۔ والد کے مطابق پولیس نے ان کے گھر کے ملازم واجد حسین کو حراست میں لیا ہے، لیکن مرکزی ملزمان اب تک گرفتار نہیں کیے گئے۔ انہیں یہ خدشہ بھی ہے کہ پولیس اصل ملزمان کو بچانے اور قتل کا سارا الزام گھریلو ملازم واجد پر ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے۔
متاثرہ والد نے بتایا کہ جب انہوں نے تھانہ کالا گجراں کے ایس ایچ او کو رابطہ کرنے کی کوشش کی تو کال موصول نہ کی گئی، جبکہ تفتیشی افسر طاہر نے فون پر یہ مؤقف اختیار کیا کہ وہ ہائی کورٹ میں موجود ہیں اور بعد میں کال کریں گے، مگر اب تک کوئی جواب نہیں ملا۔
محمد اعظم نے اعلیٰ حکام، وزیراعلیٰ پنجاب اور چیف جسٹس آف پاکستان سے اپیل کی ہے کہ انہیں انصاف فراہم کیا جائے اور ان کی معصوم بیٹی کے قاتلوں کو قرار واقعی سزا دی جائے۔
“ہم غریب ضرور ہیں، مگر اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ میری بیٹی کا خون رائیگاں نہیں جانا چاہیے، والد مقتولہ محمد اعظم







