پاکستان میں خودکار بجلی کی خرید و فروخت کا نظام متعارف
اسلام آباد: (طلحہ راجہ)پاکستان نے بجلی کی خرید و فروخت کے لیے ایک خودکار نظام متعارف کروا دیا ہے، جو توانائی کے شعبے میں ایک انقلابی پیش رفت تصور کی جا رہی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے باضابطہ طور پر “انڈیپنڈنٹ سسٹم اینڈ مارکیٹ آپریٹر” (ISMO) کو لائسنس جاری کر دیا ہے، جو اب “سنٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی” (CPPA) کی جگہ لے گا۔
اس نئے نظام کے ذریعے صارفین بجلی تقسیم کار کمپنیوں کے بجائے براہ راست بجلی فراہم کرنے والوں سے بجلی خرید سکیں گے، جس سے نہ صرف شفافیت اور کارکردگی میں بہتری آئے گی بلکہ حکومت کا واحد خریدار کا کردار بھی بتدریج ختم ہوگا۔
ابتدائی طور پر ISMO تین ڈائریکٹرز کے تحت کام کرے گا، جن کی تعداد بعد ازاں بڑھا کر گیارہ سے زیادہ کر دی جائے گی۔ پاور ڈویژن کے ایڈیشنل سیکریٹری سید زکریا علی شاہ چیف ایگزیکٹو آفیسر ہوں گے، جبکہ سیکریٹری پاور محمد فخر عالم اور جوائنٹ سیکریٹری فنانس سجاد حیدر ڈائریکٹرز کی حیثیت سے خدمات انجام دیں گے۔
یہ اقدام وفاقی کابینہ کے اُس فیصلے کے مطابق ہے جس کے تحت نیشنل ٹرانسمیشن اینڈ ڈسپیچ کمپنی کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے، اور ISMO ان میں سے ایک ادارہ ہوگا۔
اس خودکار بجلی کی خرید و فروخت کے نظام کے ذریعے پاکستان میں مسابقت کو فروغ ملے گا اور صارفین کو بجلی تک بہتر رسائی حاصل ہوگی۔






