0

قوم پرست جارج سیمیون نے رومانیہ کے صدارتی انتخاب کے پہلے مرحلے میں واضح برتری حاصل کر لی

قوم پرست جارج سیمیون نے رومانیہ کے صدارتی انتخاب کے پہلے مرحلے میں واضح برتری حاصل کر لی

رومانیہ(الیون نیوز)رومانیہ میں صدارتی انتخاب کے پہلے مرحلے میں دائیں بازو کے قوم پرست امیدوار جارج سیمیون نے نمایاں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ وہ یوکرین کو فوجی امداد دینے کے مخالف اور یورپی یونین کے ناقد ہیں۔ سیمیون نے 40.96 فیصد ووٹ حاصل کیے ہیں اور 18 مئی کو ہونے والے دوسرے مرحلے میں وہ بخارسٹ کے لبرل میئر، نکوسور دان کے خلاف فیورٹ امیدوار کے طور پر سامنے آئے ہیں۔

نکوسور دان نے حکومتی اتحاد کے امیدوار کرین انتونسکو کو معمولی فرق سے شکست دی، جنہوں نے 21 فیصد سے کم ووٹ حاصل کیے۔ چھ ماہ قبل ہونے والے انتخابات میں ایک غیر روایتی امیدوار کالن جیورجسکو کی جیت کو دھاندلی اور مبینہ روسی مداخلت کے الزامات کے باعث کالعدم قرار دیا گیا تھا۔

انتخابی نتائج کے بعد، جارج سیمیون نے ووٹرز کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا: “یہ جرات، اعتماد اور یکجہتی کا مظاہرہ تھا۔” سوشل میڈیا پر دیے گئے ایک پیغام میں انہوں نے کہا: “یہ انتخاب کسی ایک امیدوار کا نہیں بلکہ ہر اس رومی باشندے کا ہے جو جھوٹ، نظراندازی اور تضحیک کا شکار رہا اور پھر بھی اپنے حقوق اور شناخت کے تحفظ کی امید رکھتا ہے۔”

یورپی ممالک میں رہنے والے رومانیہ کے تارکین وطن نے بھی بڑی تعداد میں سیمیون کی حمایت کی، جنہوں نے اٹلی، اسپین اور جرمنی میں 70 فیصد سے زائد ووٹ حاصل کیے۔ 38 سالہ سیمیون نے خود کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا مداح قرار دیا ہے اور وہ ایک ایسے یورپی یونین کے خواہاں ہیں جس میں ہر ملک کو مکمل خودمختاری حاصل ہو۔

بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے نیٹو کی حمایت کا اعلان کیا اور رومانیہ میں نیٹو اور امریکی فوجی اڈوں کو برقرار رکھنے کی حمایت کی، تاہم انہوں نے نیٹو کی یوکرین کے لیے “زیادہ سرگرمی” پر سوال اٹھایا۔

پہلے مرحلے میں شکست کھانے والے کچھ امیدواروں کے حامیوں، جیسے سابق وزیراعظم وکٹر پونٹا، نے بھی سیمیون کی حمایت کا عندیہ دیا ہے۔ سیمیون “رومانیہ فرسٹ” پالیسی کے حامی ہیں اور رومانیہ کی پرانی سرحدوں کی بحالی چاہتے ہیں۔ انہیں ماضی میں مالدووا اور یوکرین میں داخلے پر پابندی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

اگرچہ سیمیون نے روس کو رومانیہ اور اس کے ہمسایہ ممالک کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا ہے، مگر انہوں نے یوکرین کے خلاف جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امن مذاکرات کی حمایت کی ہے، جن کا اہتمام ٹرمپ انتظامیہ کر رہی ہے۔

سیکیورٹی ماہر جارج سکوٹارو کے مطابق اگر سیمیون صدر بنے تو “یوکرین کو مزید کسی قسم کی مدد بھول جائیں”۔ رومانیہ یوکرین کے لیے ایک اہم اسلحہ اور سامان کی ترسیلی راہداری ہے، جہاں امریکہ کے میزائل دفاعی نظام اور تین بڑے نیٹو ہوائی اڈے بھی موجود ہیں۔

رائے دہندگان کے جذبات میں حالیہ مہینوں میں کچھ تبدیلی دیکھنے کو ملی ہے۔ بخارسٹ میں قائم صدارتی محل کے باغات کو عوام کے لیے کھولنے کا عارضی صدر ایلیے بولوجان کا فیصلہ عوام میں مقبول رہا۔ ایک طنزیہ مصنف یونت نے کہا، “میں سیمیون کو اس محل میں دیکھنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔”

یونت، جنہوں نے پچھلے نومبر میں غصے کے تحت سیمیون کو ووٹ دیا تھا، اس بار نکوسور دان کے حامی نظر آئے۔ نوجوان ووٹرز کی ایک بڑی تعداد اب روایتی سیاسی جماعتوں سے دوری اختیار کر چکی ہے اور یورپ کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے کے خواہاں ہیں، لیکن وہ کرپشن کے خلاف تبدیلی چاہتے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں