الفتح میزائل کا کامیاب تجربہ: پاکستان کے دفاع میں نئی پیش رفت
اسلام آباد (
(الیون نیوز) پاکستان نے ایک اور سنگِ میل عبور کرتے ہوئے 120 کلومیٹر رینج رکھنے والے جدید زمین سے زمین تک مار کرنے والے میزائل “الفتح” کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ یہ تجربہ ملک کی دفاعی صلاحیتوں کو مزید مستحکم کرنے اور جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ ہم آہنگ ہونے کے سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔
افواجِ پاکستان کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق، الفتح میزائل مکمل طور پر پاکستان میں تیار کیا گیا ہے اور یہ ہدف پر انتہائی درستگی سے حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس کا مقصد دشمن کے مخصوص اور اہم تنصیبات کو کم ترین وقت میں تباہ کرنا ہے، جو پاکستان کے دفاعی نظریے کے تحت ایک فیصلہ کن قدم تصور کیا جا رہا ہے۔
میزائل تجربے کے دوران اسٹریٹجک پلانز ڈویژن، اعلیٰ فوجی قیادت، میزائل پروگرام سے وابستہ سائنسدان اور انجینئرز موجود تھے۔ انہوں نے تجربے کی کامیابی پر اطمینان کا اظہار کیا اور اسے ملکی سلامتی کے لیے ایک اہم کامیابی قرار دیا۔
صدرِ مملکت اور وزیراعظم کا ردعمل:
صدرِ پاکستان اور وزیراعظم نے اس کامیاب تجربے پر قوم، مسلح افواج اور میزائل پروگرام سے وابستہ تمام ماہرین کو دلی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ “الفتح” میزائل کا تجربہ پاکستان کے دفاعی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کی جانب ایک مضبوط قدم ہے۔ وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے، مگر اپنے دفاع سے غافل نہیں ہو سکتا۔ اگر کسی نے جارحیت کی کوشش کی تو اسے منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔
ماہرین کا تجزیہ:
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ الفتح میزائل کا تجربہ جنوبی ایشیا میں اسلحہ کی دوڑ کا جواب نہیں بلکہ قومی سلامتی کی ضمانت ہے۔ ان کے مطابق یہ میزائل روایتی اور غیر روایتی دونوں اقسام کے وار ہیڈز لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو کہ پاکستان کی دفاعی خودمختاری کو مزید مضبوط بناتا ہے۔
بین الاقوامی ردعمل:
بین الاقوامی میڈیا نے اس تجربے کو “اہم دفاعی پیش رفت” قرار دیا ہے، جبکہ کچھ ہمسایہ ممالک کی جانب سے محتاط ردعمل سامنے آیا ہے۔ تاہم پاکستان نے بارہا واضح کیا ہے کہ اس کا دفاعی پروگرام مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے اور کسی ملک کے خلاف نہیں۔
پس منظر:
الفتح میزائل پاکستان کے کم فاصلے تک مار کرنے والے ہتھیاروں کے سلسلے میں ایک نئی جہت ہے۔ اس سے قبل پاکستان نصر، غزنوی، شاہین اور ابدالی جیسے میزائل بھی کامیابی سے تیار اور تجربہ کر چکا ہے۔ ان تمام نظاموں کا مقصد “کم سے کم قابل اعتماد دفاع” کے اصول پر عمل کرنا ہے۔






