اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں ایک فیصد کمی کر دی
کراچی (الیون نیوز)اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے مالیاتی پالیسی کا نیا اعلان کرتے ہوئے پالیسی ریٹ میں ایک فیصد کمی کر دی ہے، جس کے بعد شرح سود 12 فیصد سے کم ہو کر 11 فیصد ہو گئی ہے۔ یہ فیصلہ مہنگائی میں بتدریج کمی، مالیاتی استحکام اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے کے تناظر میں کیا گیا ہے۔
مرکزی بینک کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، حالیہ مہینوں میں صارف قیمت انڈیکس (CPI) کی شرح میں کمی دیکھی گئی ہے، جو کہ مہنگائی کے دباؤ میں نرمی کی علامت ہے۔ اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے پالیسی ریٹ میں نرمی کا فیصلہ کیا گیا تاکہ نجی شعبے کو سرمایہ کاری کے مواقع میسر آ سکیں اور صنعتی سرگرمیوں کو فروغ حاصل ہو۔
اسٹیٹ بینک کا مؤقف:
اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ شرح سود میں کمی کا مقصد معیشت کو درپیش چیلنجز کو متوازن انداز میں حل کرنا ہے۔ مرکزی بینک نے واضح کیا کہ معیشت میں استحکام آ رہا ہے، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ قابو میں ہے، اور زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آ رہی ہے۔ ایسے میں مالیاتی پالیسی کو نرم کرنا ایک مناسب اور وقتی فیصلہ ہے۔
معاشی ماہرین کی رائے:
ماہرین معاشیات نے شرح سود میں کمی کو کاروباری برادری کے لیے ریلیف قرار دیا ہے۔ معروف ماہر معاشیات ڈاکٹر اشفاق حسن کا کہنا تھا کہ بلند شرح سود سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹ بنتی ہے، اس لیے اس میں کمی ایک خوش آئند اقدام ہے جو معیشت کی بحالی میں مدد دے گا۔
کاروباری طبقے نے بھی مرکزی بینک کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (FPCCI) نے کہا ہے کہ اس اقدام سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs) کو آسانی ہوگی، کیونکہ وہ کم شرح سود پر قرض حاصل کر سکیں گے۔
بازار کا ردعمل:
شرح سود میں کمی کے بعد اسٹاک مارکیٹ میں مثبت رجحان دیکھنے کو ملا۔ کاروباری دن کے اختتام پر کراچی اسٹاک ایکسچینج میں 400 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سرمایہ کاروں نے اسے معیشت کے لیے ایک حوصلہ افزا اشارہ قرار دیا۔






