0

روس کا دعویٰ: کورسک ریجن پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا، یوکرین کی تردید

ماسکو(الیون نیوز) روسی فوج کا کہنا ہے کہ انہوں نے ملک کے مغربی کورسک علاقے پر مکمل کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا ہے، تاہم یوکرین نے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے۔
روسی آرمی کے اعلیٰ کمانڈر جنرل ویلیری گیراسیموف نے کہا کہ یوکرینی افواج کے زیر قبضہ آخری گاؤں “گورنال” کو بھی بازیاب کرالیا گیا ہے۔ یہ کاروائی آٹھ ماہ بعد مکمل ہوئی جب یوکرین نے اچانک کورسک میں دراندازی کی تھی۔

جنرل گیراسیموف نے شمالی کوریا کے فوجیوں کی “بہادری” کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے روسی جوابی حملے میں نمایاں مدد فراہم کی۔ یہ پہلا موقع ہے جب روس نے سرکاری طور پر شمالی کوریائی فوجیوں کی شمولیت کا اعتراف کیا ہے۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے کورسک میں یوکرینی کوششوں کو “مکمل ناکامی” قرار دیا۔

دوسری جانب یوکرین کا کہنا ہے کہ ان کی افواج اب بھی کورسک کے علاقے میں کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور روسی دعوؤں کو “پروپیگنڈہ” قرار دیا ہے۔ یوکرینی فوج نے کہا کہ کورسک میں صورتحال “مشکل” ضرور ہے مگر ان کی پوزیشنز برقرار ہیں۔

امریکی تھنک ٹینک “انسٹیٹیوٹ فار دی اسٹڈی آف وار (ISW)” نے اپنی تازہ رپورٹ میں بتایا کہ روسی افواج نے کورسک کی بین الاقوامی سرحد کے قریب پیش قدمی کی ہے اور یوکرینی افواج کو باقی ماندہ مقامات سے نکالنے کی کوششیں جاری ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ بیلگورود ریجن میں بھی لڑائی جاری ہے۔

جنرل گیراسیموف نے بتایا کہ کورسک میں لڑائی کے دوران 76,000 سے زائد یوکرینی فوجی ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں، تاہم اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔

روسی فوج نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے یوکرین کے شمال مشرقی سومے علاقے میں بھی کئی بستیاں اپنے کنٹرول میں لے لی ہیں، جو کورسک سے متصل ہے۔

یوکرین نے گزشتہ اگست میں روسی سرحد پر ایک بفر زون قائم کرنے کے مقصد سے کورسک اور بیلگورود میں کارروائی شروع کی تھی تاکہ روسی افواج کو مشرقی محاذ پر تعینات ہونے سے روکا جا سکے۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ روس اور یوکرین جنگ کے خاتمے کے ایک معاہدے کے “بہت قریب” پہنچ چکے ہیں، تاہم انہوں نے روسی صدر پیوٹن کی نیت پر بھی سوالات اٹھائے، خاص طور پر کیف پر حالیہ روسی حملوں کے بعد، جن میں کم از کم 12 افراد جاں بحق اور 90 زخمی ہوئے۔

ٹرمپ نے ویٹی کن میں پوپ فرانسس کی آخری رسومات کے موقع پر یوکرینی صدر ولادیمیر زیلینسکی سے ملاقات کی، جسے زیلینسکی نے ایک “انتہائی علامتی اور ممکنہ طور پر تاریخی” ملاقات قرار دیا۔

یوکرین مسلسل امریکی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے کہ وہ جنگ کے خاتمے کے لیے کچھ علاقائی رعایتیں دے، جن میں 2014 میں روس کے ہاتھوں غیر قانونی طور پر قبضہ شدہ کریمیا کو چھوڑنے کی بات بھی شامل ہے۔
تاہم صدر زیلینسکی نے کسی بھی قسم کی علاقائی رعایتوں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
یوکرین کی امید تھی کہ کورسک میں قبضہ شدہ زمین مستقبل میں مذاکرات میں سودے بازی کے طور پر استعمال کی جا سکے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں