0

نئی آٹو پالیسی اور الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس، بڑی خوشخبری آ گئی

اسلام آباد (الیون نیوز) وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ الیکٹرک گاڑیوں کو بڑی رعایت دی گئی ہے۔ میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ الیکٹرک گاڑیاں ماحول کے لیے بہت مفید ہیں اور حکومت چاہتی ہے کہ عام آدمی کو سستی سواری ملے۔ ان کا کہنا تھا کہ پٹرولیم مصنوعات کی درآمد کے بل سے نجات ضروری ہے، شہریوں کو معیاری گاڑیاں دی جائیں گی اور سستی سواری سے مہنگائی میں یقینی کمی آئے گی۔

عطا تارڑ نے کہا کہ کئی دہائیوں سے تحفظ پسند پالیسیاں نافذ ہیں، حکومت چاہتی ہے کہ عام آدمی کو فائدہ پہنچے اور ہماری بہنیں الیکٹرک بائیکس پر سفر کرتی ہیں۔

وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و تجارت ہارون اختر نے کہا کہ وزیراعظم نے الیکٹرک گاڑیوں کی فنانسنگ میں رعایت دی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فنانسنگ کی حد تیس لاکھ روپے تھی اور ادائیگی تین سال میں کرنا ہوتی تھی، اب یہ ایک کروڑ روپے تک بڑھائی جا رہی ہے اور ادائیگی تین سے پانچ سال میں کی جا سکے گی۔ پچاس ہزار ڈالر کی گاڑی لگژری زمرے میں آتی ہے، تاہم اسے بھی ڈیوٹی میں رعایت ملے گی۔ ہائبرڈ اور پلگ ان ہائبرڈ گاڑیوں کے لیے چارجنگ سٹیشنز پر کام جاری ہے اور پاکستان میں بائیس لاکھ الیکٹرک گاڑیاں بنانے کا ہدف ہے۔

مشیر نے بتایا کہ الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس تین درجوں میں ایک، تین اور نو فیصد ہوگا۔ نئی آٹو پالیسی کے تحت لگژری گاڑیوں کے علاوہ تمام گاڑیاں سستی ہو جائیں گی، پالیسی میں لوکلائزیشن پر توجہ دی گئی ہے، برآمدات کا ہدف دیا جائے گا اور پہلے سال پانچ فیصد انعام دیا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ نئی آٹو پالیسی کی آئی ایم ایف سے منظوری ابھی باقی ہے۔ آٹو پارٹس بنانے والوں کو برآمد کا موقع دیا جائے گا جبکہ الیکٹرک موٹرسائیکلوں کی ترویج بڑھ رہی ہے۔

ماخذ: الیون نیوز

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں