فرانس میں شدید گرمی کی لہر : 18 افراد ہلاک
پیرس: فرانس(الیون نیوز) فرانس میں اس وقت سال کی خطرناک ترین گرمی کی لہر کا سامنا کر رہا ہے، جہاں درجہ حرارت کئی علاقوں میں 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کر گیا ہے۔ شدید گرمی کے باعث ملک بھر میں متعدد جان لیوا واقعات پیش آئے ہیں۔ فرانسیسی حکام کے مطابق گزشتہ دو دنوں کے دوران گرمی سے بچنے کے لیے آبی مقامات کا رخ کرنے والے 13 افراد ڈوب کر جاں بحق ہوگئے، 3 معمر افراد گرمی سے متعلق طبی پیچیدگیوں کے باعث ہلاک ہوگئے، جبکہ ایک گاڑی میں بند رہ جانے والے 2 کم عمر بچے بھی جان کی بازی ہار گئے۔
فرانسیسی سول سکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ شدید گرمی کے دوران بڑی تعداد میں لوگ دریاؤں، جھیلوں اور دیگر آبی مقامات پر پہنچے، جہاں مختلف حادثات میں 13 افراد ڈوب گئے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ غیر محفوظ یا بغیر نگرانی والے مقامات پر نہانا اور تیراکی کرنا انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب جنوب مغربی فرانس کے علاقے بوغدو میں 80 سے 95 سال عمر کے تین افراد شدید گرمی اور اس سے پیدا ہونے والی طبی پیچیدگیوں کے باعث جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ طبی ماہرین کے مطابق بزرگ افراد گرمی کی شدید لہروں سے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں، خاص طور پر جب درجہ حرارت مسلسل کئی دن تک غیر معمولی حد تک بلند رہے۔
اس دوران ایک انتہائی افسوسناک واقعہ بھی پیش آیا، جہاں جنوبی فرانس کے علاقے کارپانٹرا میں دو بھائی، جن کی عمریں صرف 2 اور 4 سال تھیں، ایک گاڑی میں مردہ حالت میں پائے گئے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق شدید گرمی اور گاڑی کے اندر انتہائی بلند درجہ حرارت ان کی موت کی ممکنہ وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس واقعے نے پورے ملک کو سوگوار کر دیا ہے اور حکام نے والدین کو خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی صورت بچوں کو گاڑی میں اکیلا نہ چھوڑیں۔
موسمیاتی اداروں کے مطابق فرانس کے کئی شہروں میں جون کے مہینے کے تاریخی درجہ حرارت کے ریکارڈ ٹوٹ گئے ہیں۔ بعض علاقوں میں پارہ 42 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک طاقتور “ہیٹ ڈوم” گرم ہوا کو یورپ کے بڑے حصے پر قید کیے ہوئے ہے، جس کے باعث گرمی کی شدت غیر معمولی سطح تک پہنچ گئی ہے۔
شدید گرمی کے باعث متعدد اسکول بند یا ان کے اوقات کار محدود کر دیے گئے ہیں، جبکہ عوام کو غیر ضروری سفر سے گریز، زیادہ پانی پینے اور بزرگوں و بچوں کا خصوصی خیال رکھنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
ان واقعات کے بعد فرانس میں اس گرمی کی لہر سے منسلک ہلاکتوں کی مجموعی تعداد کم از کم 18 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ حکام کو خدشہ ہے کہ اگر درجہ حرارت میں جلد کمی نہ آئی تو مزید جانی نقصان بھی ہو سکتا ہے۔ فرانس سمیت یورپ کے کئی ممالک میں ہائی الرٹ نافذ ہے اور ماہرین موسمیاتی تبدیلی کو ایسی شدید گرمی کی لہروں میں اضافے کی ایک بڑی وجہ قرار دے رہے ہیں۔
0






