یورپی یونین کا نیا امیگریشن قانون منظور، غیر قانونی تارکین وطن کی واپسی کے لیے سخت اقدامات۔ فرانس ۔اسپین سمیت دیگر ممالک نے اس قانون کی مخالفت کر دی
برسلز (الیون نیوز) یورپی یونین کے پارلیمنٹ اور کونسل نے ایک نیا اور سخت امیگریشن و اسائلم قانون منظور کر لیا ہے جس کا مقصد یورپ میں غیر قانونی طور پر موجود تارکین وطن کی واپسی کے عمل کو تیز اور مؤثر بنانا ہے۔ اس قانون کے تحت رکن ممالک کو یہ اختیار حاصل ہوگا کہ وہ ایسے افراد کو تیزی سے ان کے آبائی ممالک یا تیسرے ممالک میں واپس بھیج سکیں جہاں “ریٹرن ہبس” (Return Hubs) قائم کیے جا سکتے ہیں۔
یہ اصلاحات یورپی یونین کے نئے Pact on Migration and Asylum کا حصہ ہیں، جو 2026 سے مکمل طور پر نافذ العمل ہو چکا ہے اور اس کا مقصد یورپی سرحدوں اور امیگریشن نظام کو زیادہ سخت اور منظم بنانا ہے۔
فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے دوران تقریر کہا کہ کا یورپ سے باہر مراکز حل نہیں کیونکہ ایسے مراکز مؤثر ثابت نہیں ہوں گے اور یہ یورپی اقدار کے مطابق بھی نہیں اور اس سے امیگریشن کا اصل مسئلہ بھی حل نہیں ہوگا
میکرون نے واضح کیا کہ فرانس غیر قانونی تارکین وطن کی واپسی کے حق میں ہے لیکن
یہ عمل انسانی، منظم اور مؤثر طریقے سے ہونا چاہیے، نہ کہ ایسے مراکز کے ذریعے جن کا عملی فائدہ ثابت نہیں ہوا۔
انہوں نے مزید کہا کہ یورپ کو اصل توجہ اپنی سرحدوں کی سخت نگرانی اور مؤثر واپسی کے نظام پر دینی چاہیے۔
اس بل کو لے کر یورپی یونین میں اختلافات پایا جا رہا ہے
اگرچہ اس قانون کی منظوری ہو چکی ہے، لیکن تمام رکن ممالک اس پر متفق نہیں ہیں۔
کچھ ممالک (جیسے ڈنمارک اور اٹلی) اس سخت پالیسی کے حامی ہیں
جبکہ فرانس اور اسپین جیسے ممالک نے “ریٹرن ہبس” پر تحفظات کا اظہار کیا ہے
ماہرین کے مطابق یہ اختلاف اس بات کی علامت ہے کہ یورپی یونین میں امیگریشن پالیسی پر سیاسی تقسیم بڑھ رہی ہے۔
قانون کے اہم نکا
نئے قانون کے تحت:
غیر قانونی تارکین وطن کی واپسی کے عمل کو تیز کیا جائے گا
ڈیٹینشن اور ڈیپورٹیشن کے قوانین سخت کیے جائیں گے
کچھ صورتوں میں افراد کو تیسرے ممالک میں قائم مراکز میں رکھا جا سکے گا
تمام اقدامات انسانی حقوق کے دائرے میں رہ کر کیے جائیں گے۔
اس بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بل اگرچہ پاس ہو چکا لیکن اس پر عملدرآمد ہوتا نظر نہی ا رہا کیونکہ جن ممالک نے اس بل کے خلاف ووٹ دیا وہ کبھی بھی اس پر عملدرامد نہی کریں گے جس کا اظہار انہوں نے شیم شیم کے نعرے لگا کر اس وقت جواب دیا جب بل پاس کرنے والے ممالک نے go back home کے نعرے لگائے اس کے علاوہ فرانس اور اسپین نے بھی کھل کر اس کی مخالفت کی کہ یہ طریقہ درست نہی اس سے ثابت ہوتا ہے کہ بہت سے یورپی ممالک اس پر عملدرامد نہی کریں گے اس بل سے یورپی یونین میں واضع اختلاف سامنے آیا
0






