0

عمران خان کیا پاکستان کی ضرورت؟ تحریر۔ ملک وسیم اختر

عمران خان کیا پاکستان کی ضرورت؟
تحریر
ملک وسیم اختر

پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے ایک نازک ترین دور سے گزر رہا ہے۔ مہنگائی نے عام آدمی کی کمر توڑ دی ہے، بے روزگاری نوجوانوں کے خواب نگل رہی ہے، قرضوں کا بوجھ مسلسل بڑھ رہا ہے اور قوم مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کیفیت کا شکار ہے۔ ایسے حالات میں ایک سوال بار بار ذہن میں ابھرتا ہے: کیا پاکستان کے مسائل کا حل موجودہ سیاسی قیادت کے پاس ہے یا قوم کو دوبارہ عمران خان کی طرف دیکھنا ہوگا؟
میری رائے میں آج پاکستان کی سیاست کی سب سے بڑی حقیقت عمران خان کی مقبولیت ہے۔ ایک ایسی مقبولیت جو اقتدار سے باہر ہونے کے بعد بھی ختم نہیں ہوئی، گرفتاریوں کے باوجود کم نہیں ہوئی اور سخت ترین سیاسی حالات کے باوجود برقرار ہے۔ دنیا کی سیاسی تاریخ میں بہت کم رہنما ایسے ملتے ہیں جو جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوں لیکن کروڑوں لوگوں کے دلوں میں زندہ ہوں۔
عمران خان صرف ایک سیاسی جماعت کے سربراہ نہیں بلکہ لاکھوں پاکستانیوں کے لیے امید کی علامت بن چکے ہیں۔ پاکستان کے گلی کوچوں سے لے کر یورپ، امریکہ، برطانیہ، خلیجی ممالک اور دنیا بھر میں مقیم پاکستانیوں تک، ایک بڑی تعداد آج بھی ان کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ عمران خان کا نام آج بھی پاکستان کی سیاست کے مرکز میں ہے۔
تحریک انصاف کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ عمران خان کے ساتھ ساتھ ان کے قریبی ساتھیوں کو بھی سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا۔ ڈاکٹر یاسمین راشد، شاہ محمود قریشی، محمود الرشید، اعجاز چوہدری، حسان نیازی اور دیگر متعدد رہنما اور کارکن طویل عرصے تک قانونی اور سیاسی مشکلات کا سامنا کرتے رہے۔ ان کے حامیوں کے نزدیک ان لوگوں کی “غلطی” صرف یہ تھی کہ انہوں نے عمران خان کا ساتھ نہیں چھوڑا۔
اس کے برعکس بعض ایسے رہنما بھی سامنے آئے جنہوں نے مشکل وقت میں تحریک انصاف سے راہیں جدا کر لیں۔ فواد چوہدری، پرویز خٹک، محمود خان اور دیگر کئی شخصیات کے فیصلوں پر آج بھی سیاسی حلقوں میں بحث جاری ہے۔ عمران خان کے حامی انہیں وفاداری کے امتحان میں ناکام سمجھتے ہیں جبکہ ان کے مخالفین اسے سیاسی ضرورت قرار دیتے ہیں۔ تاریخ فیصلہ کرے گی کہ کون درست تھا اور کون نہیں۔
آج بھی بیرسٹر گوہر علی خان، عمر ایوب خان، سلمان اکرم راجہ، شبلی فراز، علی محمد خان اور دیگر رہنما جماعت کو متحرک رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ تحریک انصاف کی سیاست کا محور آج بھی عمران خان ہی ہیں۔ ان کی موجودگی کے بغیر پارٹی کا تصور مکمل نہیں ہوتا۔
گزشتہ چار برسوں میں پاکستان کے عوام نے مختلف سیاسی تجربات دیکھ لیے۔ اتحادی حکومتیں بھی دیکھ لیں، نئی معاشی پالیسیاں بھی دیکھ لیں اور مختلف دعوے بھی سن لیے۔ لیکن عام آدمی کی زندگی میں وہ بہتری نظر نہیں آئی جس کا وعدہ کیا گیا تھا۔ مہنگائی کم ہونے کے بجائے بڑھتی رہی، کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوئیں اور نوجوانوں میں مایوسی میں اضافہ ہوا۔
یہی وجہ ہے کہ عمران خان کے حامی یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ اگر تمام سیاسی اور انتظامی تجربات کے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے تو پھر عمران خان کو سیاسی عمل سے باہر رکھ کر کیا حاصل ہوا؟
میری نظر میں عمران خان کی سب سے بڑی طاقت ان کی عوامی قبولیت ہے۔ ایک ایسا رہنما جس کی ایک کال پر لاکھوں لوگ متحرک ہو جائیں، جس کے لیے بیرونِ ملک پاکستانی مسلسل آواز بلند کریں اور جس کی مقبولیت اقتدار کے بغیر بھی برقرار رہے، اسے نظر انداز کرنا آسان نہیں ہوتا۔
بہت سے لوگ یہ یقین رکھتے ہیں کہ اگر عمران خان کو قومی سطح پر معاشی بحالی کی مہم چلانے کا موقع ملے تو پاکستانی قوم، خصوصاً اوورسیز پاکستانی، بھرپور تعاون کریں گے۔ اس سوچ کے پیچھے عمران خان پر اعتماد اور ان کی دیانت داری کے بارے میں ان کے حامیوں کا یقین کارفرما ہے۔
پاکستان کو آج صرف سیاسی استحکام نہیں بلکہ عوام کے اعتماد کی بھی ضرورت ہے۔ ریاستیں صرف قوانین سے نہیں بلکہ عوام کے اعتماد سے مضبوط ہوتی ہیں۔ اگر ملک کی ایک بڑی تعداد عمران خان کو اپنی امید سمجھتی ہے تو اس حقیقت کو نظر انداز کرنا قومی مفاد میں نہیں ہوگا۔
اختلافِ رائے ہر جمہوریت کا حسن ہے۔ عمران خان سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، ان کی پالیسیوں پر تنقید کی جا سکتی ہے، لیکن ان کی عوامی مقبولیت سے انکار کرنا مشکل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میری رائے میں پاکستان کے سیاسی بحران کا پائیدار حل تصادم میں نہیں بلکہ قومی مفاہمت اور عوامی مینڈیٹ کے احترام میں پوشیدہ ہے۔
شاید اسی لیے آج بھی بہت سے پاکستانی یہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کے مستقبل کی کسی بھی سنجیدہ بحث میں عمران خان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے نزدیک عمران خان صرف ایک سیاست دان نہیں بلکہ ایک ایسی سیاسی حقیقت ہیں جسے تسلیم کیے بغیر آگے بڑھنا ممکن نہیں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں