0

سندھ میں کسانوں کا احتجاج شدت اختیار کر گیا، آصفہ بھٹو کے قافلے کو روکنے کی کوشش، مظاہرین پر سیکیورٹی اہلکاروں کا حملہ

سندھ میں کسانوں کا احتجاج شدت اختیار کر گیا، آصفہ بھٹو کے قافلے کو روکنے کی کوشش، مظاہرین پر سیکیورٹی اہلکاروں کا حملہ

جامشورو (نمائندہ خصوصی+الیون نیوز ) سندھ میں کسانوں کی جانب سے اپنے مطالبات کے حق میں سندھ حکومت کے خلاف احتجاج کا سلسلہ زور پکڑ گیا ہے۔ حالیہ واقعے میں مظاہرین نے آصفہ بھٹو زرداری کے قافلے کو جامشورو کے مقام پر روکنے کی کوشش کی، جہاں پر بینظیر یونیورسٹی کے سامنے “بینظیر گیٹ” کے مقام پر درجنوں سندھی مظاہرین احتجاج ریکارڈ کروانے کے لیے جمع ہوئے۔

عینی شاہدین کے مطابق مظاہرین نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر حکومت سندھ کے خلاف نعرے درج تھے۔ جیسے ہی آصفہ بھٹو کا قافلہ وہاں سے گزرنے لگا، مظاہرین نے اسے روکنے کی کوشش کی تاکہ اپنے مطالبات پیش کیے جا سکیں۔ تاہم، سیکیورٹی اہلکاروں نے مظاہرین کو زبردستی پیچھے دھکیلنے کی کوشش کی، جس سے حالات کشیدہ ہو گئے۔

صورتحال اس وقت مزید بگڑ گئی جب سیکیورٹی اہلکار مبینہ طور پر مظاہرین پر حملہ آور ہو گئے۔ اس کے ردعمل میں مظاہرین نے مشتعل ہو کر قافلے کی گاڑیوں پر ڈنڈے برسا دیے، جس سے متعدد گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ سوشل میڈیا پر اس واقعے کی ویڈیوز وائرل ہو رہی ہیں، جن میں مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان تصادم واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

واقعے کے بعد پیپلزپارٹی کی قیادت نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اپنے رہنماؤں کو ہدایت کی ہے کہ وہ وقتی طور پر اندرون سندھ کے دورے معطل کر دیں۔ پارٹی ذرائع کے مطابق، یہ اقدام رہنماؤں کی جان و مال کے تحفظ کے پیش نظر اٹھایا گیا ہے۔

دوسری جانب مظاہرین نے اعلان کیا ہے کہ جب تک ان کے مطالبات تسلیم نہیں کیے جاتے، احتجاج جاری رہے گا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ زرعی پانی کی منصفانہ تقسیم، سبسڈی کی فراہمی اور زمینوں کے حقوق جیسے بنیادی مسائل پر آواز بلند کر رہے ہیں، لیکن حکومت کی جانب سے مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

علاقے میں صورتحال بدستور کشیدہ ہے جبکہ پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے الرٹ ہیں۔ مزید ناخوشگوار واقعات سے بچنے کے لیے سیکیورٹی میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں