0

ایرانی وزیر خارجہ کا دورۂ پاکستان: پاک بھارت کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششیں تیز

ایرانی وزیر خارجہ کا دورۂ پاکستان: پاک بھارت کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششیں تیز

اسلام آباد (الیون نیوز)خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حالیہ واقعات کے پیش نظر ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی ایک اہم سفارتی مشن پر اسلام آباد پہنچ گئے۔ ان کے اس دورے کا مقصد پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری تناؤ کو کم کرنا اور بات چیت کے ذریعے امن کے امکانات کو بحال کرنا ہے۔

اسلام آباد آمد پر عباس عراقچی کا استقبال وزارت خارجہ کے اعلیٰ حکام نے کیا۔ بعدازاں انہوں نے وزیر خارجہ، وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی اور دیگر اہم شخصیات سے ملاقاتیں کیں۔ ملاقاتوں کے دوران دو طرفہ تعلقات، علاقائی سیکیورٹی، اور خاص طور پر پاک بھارت حالیہ کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ایرانی موقف:

عباس عراقچی نے پاکستانی قیادت کو تہران کا یہ واضح پیغام پہنچایا کہ ایران خطے میں امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران دونوں ممالک کے درمیان ایک “پُل” کا کردار ادا کرنا چاہتا ہے، تاکہ مسئلہ افہام و تفہیم سے حل ہو سکے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے باور کرایا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، بلکہ خطے کے کروڑوں لوگوں کے لیے مزید تباہی کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔

پاکستانی قیادت کی پذیرائی:

پاکستانی وزیر خارجہ اور اعلیٰ حکام نے ایرانی ثالثی کی پیشکش کو خوش آئند قرار دیا۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ مذاکرات کا حامی رہا ہے اور امن کی بحالی کے لیے کسی بھی سنجیدہ ثالثی کی کوششوں کو سراہتا ہے۔ انہوں نے ایران کے تعمیری کردار پر شکریہ ادا کیا اور خطے میں یکجہتی کو ضروری قرار دیا۔

علاقائی اور عالمی ردعمل:

بین الاقوامی مبصرین ایران کے اس اقدام کو خطے میں سفارتی توازن کے لیے ایک مثبت پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق، ایران کی جغرافیائی، مذہبی اور تاریخی حیثیت کے پیش نظر وہ دونوں ممالک کے ساتھ قابلِ احترام تعلقات رکھتا ہے، جو اسے ایک قابل قبول ثالث بناتا ہے۔

پس منظر:

یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب کشمیر میں حملے اور اس کے بعد سفارتی سطح پر تلخیوں نے جنوبی ایشیا میں ایک بار پھر کشیدگی کو جنم دیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان الزامات، سفارتی تعلقات میں کمی، اور آبی تنازعات جیسے حساس معاملات نے صورتحال کو نازک بنا دیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں