امریکہ نے بھارت اور پاکستان سے کشیدگی کم کرنے کی اپیل کی، کشمیر میں ہلاکتوں کے بعد حالات کشیدہ
امریکہ (الیون نیوز)امریکہ نے بھارت اور پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ گزشتہ ہفتے بھارت کے زیرانتظام کشمیر میں ہونے والے ہلاکت خیز حملے کے بعد کشیدگی کو کم کریں، جس میں 26 شہری مارے گئے تھے۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بدھ کے روز بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر اور پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف سے علیحدہ علیحدہ بات چیت کی۔ انہوں نے جنوبی ایشیا میں امن و استحکام برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔
بھارت نے اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا ہے، جبکہ پاکستان نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ حملہ 22 اپریل کو پہلگام کے قریب ایک سیاحتی مقام پر کیا گیا تھا۔
بھارت نے پاکستانی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ اس سے پہلے پاکستان بھی ایسے اقدامات کر چکا ہے۔ یہ ایک دوسرے کے خلاف جوابی کارروائیوں کی ایک کڑی ہے۔
ایس جے شنکر نے ایک بیان میں کہا کہ حملے کے “منصوبہ سازوں، سہولت کاروں اور حمایتیوں” کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ مارکو روبیو نے بھی بھارت کی انسداد دہشت گردی کی کوششوں کی حمایت کی یقین دہانی کرائی۔
دوسری جانب وزیر خارجہ روبیو نے پاکستان کے وزیر اعظم سے گفتگو کے دوران حملے کی مذمت کی اور اسلام آباد سے کہا کہ وہ اس “ناقابل قبول” حملے کی تحقیقات میں تعاون کرے۔
شہباز شریف نے اس گفتگو کے دوران بھارت پر الزامات عائد کرنے کی کوششوں کو مسترد کیا اور امریکہ سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کو “بیان بازی کم کرنے اور ذمہ داری کا مظاہرہ کرنے” پر قائل کرے۔
اس دوران بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے دفاعی حکام کے ساتھ ہنگامی ملاقاتیں کیں اور ذرائع کے مطابق فوج کو حملے کے ردعمل میں “وقت، مقام اور طریقہ” کے تعین میں مکمل آزادی دے دی گئی ہے۔
دونوں ممالک کی افواج کے درمیان لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کے تبادلے جاری ہیں۔ بھارت نے حالیہ دنوں میں ویزے منسوخ کیے، پاکستانی شہریوں کو ملک چھوڑنے کا حکم دیا، اور پانی کی تقسیم کا معاہدہ بھی معطل کر دیا۔
جواباً پاکستان نے بھی ویزے منسوخ کیے اور 1972 کے امن معاہدے کو معطل کر دیا۔ رپورٹس کے مطابق اب تک 786 پاکستانی بھارت سے واپس جا چکے ہیں جبکہ 1,465 بھارتی شہری پاکستان سے لوٹ چکے ہیں۔
ادھر بھارت میں کئی پاکستانی فنکاروں کے انسٹاگرام اکاؤنٹس بلاک کر دیے گئے ہیں، اور متعدد پاکستانی نیوز چینلز پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
کشمیر، جس پر بھارت اور پاکستان مکمل دعویٰ رکھتے ہیں مگر جزوی طور پر انتظام سنبھالتے ہیں، 1947 سے دونوں ممالک کے درمیان تنازع کا سبب رہا ہے۔
حملے کی ذمہ داری کسی گروپ نے قبول نہیں کی، تاہم ایک رپورٹ میں ابتدا میں “ریزسٹنس فرنٹ” کا ذکر ہوا تھا، جو بعد میں اس کی تردید کر چکی ہے۔ بھارتی پولیس نے تین حملہ آوروں کی شناخت کی ہے، جن میں دو پاکستانی شہری اور ایک مقامی باشندہ شامل ہیں۔
عینی شاہدین کے مطابق حملہ آوروں نے ہندو مردوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا۔ یہ حملہ گزشتہ بیس سالوں میں عام شہریوں پر سب سے ہلاکت خیز حملہ قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیر اعظم مودی نے اس حملے کا سخت جواب دینے کا اعلان کیا ہے، ان کے الفاظ میں: “بھارت حملہ آوروں کو ایسی سزا دے گا جو ان کے تصور سے بھی باہر ہو۔”






