0

انتظامیہ کی بری امام ہاؤس کے خلاف کارروائی: ترقیاتی منصوبہ یا 53 سالہ عوامی خدمت کا خاتمہ؟

اسلام آباد (ملک فدا حسین) — اسلام آباد انتظامیہ اور سی ڈی اے کی جانب سے 30 اکتوبر کی رات بری امام ہاؤس کو سیل کرنے کے اقدام نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔ یہ اقدام اس علاقے میں مجوزہ بڑے ترقیاتی و تجارتی منصوبوں کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے، جبکہ ہاؤس انتظامیہ اسے 53 سالہ زائرین کی خدمت اور لنگر کے نظام کے مستقبل سے جوڑ رہی ہے۔

بری امام دربار کے عین سامنے واقع اس مقام کی بندش پر بنیادی سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ انتظامی کارروائی کی ضرورت اور اس کے اثرات کو مدنظر رکھتے ہوئے، زائرین کے لیے جاری عوامی خدمت کے نظام کے لیے کوئی متبادل انتظام کیا گیا یا نہیں۔

بری امام ہاؤس میں لنگر اور عوامی خدمت کا آغاز 1973 میں راجہ محمد اکرم شہید نے کیا۔ انتظامیہ کے مطابق اس وقت کے رائج قانونی طریقہ کار کے تحت تقریباً 200 کنال اراضی حاصل کی گئی تھی، جس کے دستاویزی ثبوت اور دیگر ریکارڈ موجود ہیں۔ اس وقت سے یہ مقام بری امام دربار آنے والے ملک بھر اور بیرون ملک سے زائرین کی خدمت کا مرکز رہا ہے۔

ہاؤس سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ پانچ دہائیوں سے زائد عرصے سے زائرین کے لیے بلا تفریق کھانے اور دیگر بنیادی سہولتوں کا انتظام کیا جاتا رہا ہے۔

راجہ محمد اکرم شہید کے خاندان کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس خدمت کو کبھی کاروبار یا ذاتی آمدنی کا ذریعہ نہیں بنایا۔ اگرچہ پاکستان کے مختلف مزارات پر گدی نشینی اور نذرانے کی روایات موجود ہیں، راجہ محمد اکرم شہید اور ان کے بعد راجہ سرفراز اکرم نے خود کو گدی نشین کے بجائے خادم درگاہ کے طور پر پیش کیا۔ ان کے مطابق زائرین سے باقاعدگی سے نذرانہ وصول کرنے یا لنگر کے نظام کو کاروباری سرگرمی میں تبدیل کرنے کا کوئی نظام قائم نہیں کیا گیا، اور خاندان اپنی وسائل سے خدمت کا یہ نظام جاری رکھے ہوئے ہے۔

بری امام ہاؤس میں جمعرات، جمعہ، ہفتہ، اتوار اور دیگر دنوں میں زائرین کے لیے کھانے کا انتظام کیا جاتا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق لنگر کے نظام میں کوئی مذہبی، سماجی یا معاشی تفریق نہیں کی جاتی اور تمام زائرین کو عزت و احترام کے ساتھ کھانا پیش کیا جاتا ہے۔

صوفی اور اسلامی روایت میں بھوکوں کو کھانا کھلانے اور مسافروں کی خدمت کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔ لنگر کی روایت صرف خوراک کی فراہمی تک محدود نہیں، بلکہ اسے مساوات، انسانیت، سخاوت اور خدمت خلق کی عملی علامت بھی سمجھا جاتا ہے۔

بری امام دربار شریف محکمہ اوقاف کے زیر انتظام ہے اور زائرین کی جانب سے جمع کرائی جانے والی رقوم بھی سرکاری نظام کے تحت محکمہ اوقاف کو جاتی ہیں۔ تاہم بری امام ہاؤس سے وابستہ افراد کے مطابق اس رضاکارانہ نظام نے کئی دہائیوں سے زائرین کے لیے باقاعدہ لنگر، مناسب بیٹھنے کی جگہ اور دیگر سہولتوں کی فراہمی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

اس تناظر میں یہ سوال اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر بری امام ہاؤس کا موجودہ نظام ختم کر دیا جاتا ہے تو زائرین کے لیے لنگر اور دیگر سہولتوں کا متبادل انتظام کون اور کس طریقہ کار کے تحت کرے گا۔

بری امام ہاؤس انتظامیہ کے مطابق یہ معاملہ حکومت کی اعلیٰ ترین سطح پر بھی اٹھایا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت علاقے میں کسی بڑے ترقیاتی یا تجارتی منصوبے پر کام کرنا چاہتی ہے تو انہیں اس پر اصولی اعتراض نہیں ہے۔ تاہم ان کی بنیادی درخواست یہ ہے کہ علاقے میں موجود مسجد، لنگر خانہ اور طویل عرصے سے جاری زائرین کی خدمت کا نظام مکمل طور پر ختم نہ کیا جائے۔

اس مقصد کے لیے ایک تجویز بھی پیش کی گئی ہے کہ اسلام آباد انتظامیہ، سی ڈی اے اور محکمہ اوقاف باہمی مشاورت سے ایسا انتظام وضع کریں جس کے تحت مسجد اور لنگر خانہ باقاعدہ طور پر محکمہ اوقاف کے انتظام کے تحت دے دیے جائیں، جبکہ راجہ سرفراز اکرم اور ان کا خاندان پہلے کی طرح لنگر کے اخراجات اور انتظامی معاونت جاری رکھیں۔

بری امام ہاؤس سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں اور طویل عرصے سے جاری عوامی خدمت کے نظام کو ایک دوسرے کے مخالف نہیں سمجھنا چاہیے۔ ان کے مطابق حکومت اپنی ضروریات اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے زمین حاصل کر سکتی ہے، تاہم مسجد، لنگر خانہ اور زائرین کی خدمت کے نظام کو محفوظ رکھنے کے لیے متبادل انتظامات بھی ممکن ہیں۔

بری امام ہاؤس کی بندش نے اب یہ اہم سوال اٹھا دیا ہے کہ ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ ساتھ کئی دہائیوں سے عوام اور زائرین کی بلا تفریق خدمت کرنے والے ایسے سماجی و فلاحی اداروں کی تاریخی خدمات کو کیسے محفوظ رکھا جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں