فرانس میں مہنگائی، پولیس تشدد اور تعلیمی حالات کے خلاف تیسرے ہفتے بھی ملک گیر مظاہرے ہوئے، جن میں حکام کے مطابق تین لاکھ بیس ہزار افراد نے شرکت کی، جن میں پیرس میں ستر ہزار شامل تھے، جب کہ منتظمین کا دعویٰ ہے کہ تعداد تقریباً پانچ لاکھ تک تھی۔ پیرس میں مارچ کے اختتام پر مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، جن میں پتھر اور پٹاخے پھینکے گئے اور پولیس نے آنسو گیس اور لاٹھی چارج کا استعمال کیا۔ لیون میں بھی مظاہرین پر آنسو گیس پھینکی گئی اور ٹولوز میں غیر مجاز مظاہرے کے خلاف واٹر کینن استعمال ہوئی۔ وزارت داخلہ کے مطابق ملک بھر میں پانچ سو پینسٹھ افراد گرفتار کیے گئے، جب کہ پیرس میں چار پولیس اہلکار اور ایک ژاں دارم زخمی ہوئے، جن میں سے تین پیٹرول بم سے جھلس گئے۔ پیرس کے ریپبلک اور شاتلے علاقوں میں رات گیارہ سے صبح چھ بجے تک کرفیو بھی نافذ کیا گیا۔ مظاہروں میں طلبہ، ٹریڈ یونینز اور یلو ویسٹ کارکن شامل ہیں۔ماخذ: ڈان / اے ایف پی، یکم نومبر 2026۔
0
- فیس بک
- ٹویٹر
- واٹس ایپ
- ای میل









