مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی: امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی کوششیں تیز
واشنگٹن / تہران (الیون نیوز )مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تنازع کو روکنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز ہو گئی ہیں اور مختلف ممالک کی ثالثی میں ممکنہ جنگ بندی منصوبے پر غور کیا جا رہا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق United States اور Iran کے درمیان جاری فوجی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے تقریباً 45 روزہ سیزفائر (جنگ بندی) کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ اس منصوبے کے تحت پہلے مرحلے میں فوری جنگ بندی اور دوسرے مرحلے میں مستقل امن مذاکرات شروع کرنے کی بات کی جا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق کئی ممالک اس معاملے میں ثالثی کر رہے ہیں تاکہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کیا جا سکے اور دونوں ممالک کو براہِ راست مذاکرات کی میز پر لایا جا سکے۔
ادھر امریکہ نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اہم عالمی تجارتی راستے Strait of Hormuz کو دوبارہ بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے کھول دے۔ یہ آبنائے عالمی تیل کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے اور اس کی بندش سے عالمی معیشت پر بڑے اثرات پڑ سکتے ہیں۔
حالیہ دنوں میں کشیدگی اس وقت مزید بڑھ گئی جب ایران نے دو امریکی جنگی طیارے مار گرانے کا دعویٰ کیا، جس کے بعد امریکی فوج نے ایک مشکل ریسکیو آپریشن کے ذریعے اپنے پائلٹ کو بحفاظت نکالنے کا اعلان کیا۔
موجودہ تنازع نے شدت اس وقت اختیار کی جب 28 فروری 2026 کو امریکہ اور اس کے اتحادی Israel نے ایران کے بعض فوجی اور جوہری تنصیبات پر فضائی حملے کیے، جس کے بعد ایران نے میزائل اور ڈرون حملوں سے جواب دیا۔
ماہرین کے مطابق اس جنگ کے باعث نہ صرف مشرقِ وسطیٰ کی سکیورٹی صورتحال متاثر ہو رہی ہے بلکہ عالمی تیل کی قیمتوں اور بین الاقوامی تجارت پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دن اس تنازع کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں کیونکہ عالمی طاقتیں کسی بھی صورت میں اس جنگ کو بڑے علاقائی تنازع میں تبدیل ہونے سے روکنا چاہتی ہیں۔
0





