واشنگٹن (الیون نیوز) امریکی صدر Donald Trump اور ان کے اعلیٰ فوجی مشیر Dan Caine کے درمیان ایران کے معاملے پر اہم اختلافِ رائے سامنے آیا ہے، جس کا انکشاف The New York Times کی ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاؤس میں ہونے والی اعلیٰ سطحی خفیہ میٹنگز کے دوران جنرل ڈین کین نے صدر کو واضح طور پر خبردار کیا کہ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی نہ صرف پیچیدہ ہوگی بلکہ اس کے سنگین نتائج بھی سامنے آ سکتے ہیں۔ جنرل کے مطابق ایسی کسی جنگ میں امریکہ کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے اور فوج کو ہتھیاروں اور وسائل کی کمی جیسے مسائل کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب صدر Donald Trump نے عوامی سطح پر اس کے برعکس زیادہ پُرامید مؤقف اختیار کیا۔ اپنے بیانات اور سوشل میڈیا پیغامات میں انہوں نے عندیہ دیا کہ اگر ایران کے خلاف کارروائی کی گئی تو امریکہ کامیابی حاصل کر سکتا ہے اور فوج مکمل طور پر تیار ہے۔
یہی فرق اس وقت نمایاں ہوا جب The New York Times نے رپورٹ کیا کہ صدر کے عوامی بیانات اور ان کے ٹاپ جنرل کی نجی بریفنگز میں واضح تضاد پایا جاتا ہے۔ ایک طرف سیاسی قیادت زیادہ جارحانہ اور پُراعتماد نظر آتی ہے، جبکہ فوجی قیادت زمینی حقائق اور ممکنہ خطرات کو زیادہ سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے۔
پس منظر میں دیکھا جائے تو امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی موجودگی میں اضافہ کیا جا چکا ہے جبکہ ایران کی جانب سے بھی سخت ردعمل کے اشارے دیے گئے ہیں۔ ایسے حالات میں کسی بھی قسم کی فوجی کارروائی پورے خطے کو بڑے تنازعے میں دھکیل سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق ایران روایتی جنگ کے بجائے غیر روایتی حکمت عملی (asymmetric warfare) میں مہارت رکھتا ہے، جس میں چھوٹے مگر مؤثر حملے، ڈرونز اور میزائل استعمال کیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی فوجی قیادت کسی بھی فوری یا آسان فتح کے دعوے سے گریز کر رہی ہے۔






